پیر، 16-فروری،2026
پیر 1447/08/28هـ (16-02-2026م)

طالبان کی سخت گیر پالیسی برقرار، افغان خواتین کو کاروباری میدان سے بھی باہر کر دیا

16 فروری, 2026 09:56

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ کابل میں منعقد ہونے والی پانچ روزہ “بین الاقوامی صنعتی نمائش” میں خواتین کے داخلے اور شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی، جس کے بعد ملک میں صنفی امتیاز اور انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

افغان خبر رساں ادارے افغان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے نہ صرف نمائش میں خواتین کے داخلے پر پابندی لگائی بلکہ کاروباری خواتین کو اپنے اسٹالز لگانے اور سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بھی روک دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے نمائش کے مقام پر آنے والی خواتین کو زبردستی واپس بھیج دیا اور انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ تیسری بین الاقوامی صنعتی نمائش تھی جس کا انعقاد کابل میں کیا گیا، تاہم موجودہ حالات میں خواتین کے لیے اس کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے گئے۔

افغان خواتین پہلے ہی تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں میں سخت پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں، انہیں اب تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں بھی شرکت سے روک دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان کی حکومت نے خواتین سے متعلق سخت گیر پالیسیوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔

تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں خواتین کے کام کرنے پر قدغن، اور عوامی مقامات پر سخت سماجی ضوابط پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔ اب صنعتی اور تجارتی نمائشوں جیسے مواقع بھی ان کے لیے محدود کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں افغان خواتین کو منظم انداز میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی سے باہر کیا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اور شدت پسند طرزِ حکمرانی اس حکومت کی نمایاں پہچان بنتی جا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ صنعتی نمائشوں میں شرکت کاروباری نیٹ ورکنگ، سرمایہ کاری کے مواقع اور مقامی مصنوعات کے فروغ کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں خواتین کو اس عمل سے الگ کرنا نہ صرف صنفی امتیاز کو بڑھاتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی طالبان حکومت کی خواتین سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ متعدد عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا مطالبہ کر چکی ہیں کہ افغان خواتین کو تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت واقعی عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی سے گریز کرتے ہوئے عوامی فلاح اور خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ افغان خواتین کو معاشرے میں برابر کا مقام اور معاشی میدان میں مساوی حصہ مل سکے۔

کابل کی صنعتی نمائش میں خواتین پر پابندی کا حالیہ اقدام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں صنفی مساوات اور انسانی حقوق کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، اور خواتین کے لیے سماجی و معاشی مواقع تیزی سے سکڑتے جا رہے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔