بھارت کے تعلیمی اداروں میں بھی کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک، 33 شاگرد معطل

اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں زیر تعلیم درجنوں کشمیری طلبہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق میواڑ یونیورسٹی میں 33 کشمیری طلبہ کو پر بے بنیاد وجوہات کی بنا پر معطل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان طلبہ نے ڈگری نرسنگ کونسل سے متعلق معاملات پر احتجاج کیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے ان کے خلاف کارروائی کی۔
یہ طلبہ نرسنگ کونسل کی منظوری سے متعلق مسائل پر آواز اٹھا رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق کونسلز کی منظوری نہ ہونے کے باعث پچاس سے زائد کشمیری طلبہ کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے میڈیکل اور نرسنگ کے طلبہ کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے جائز مطالبات سننے کے بجائے ان کی آواز دبانے کے لیے معطلی کا قدم اٹھایا گیا، جو تعلیم کے بنیادی حق کے منافی ہے۔
طلبہ تنظیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی مسائل کو انتظامی سطح پر حل کیا جانا چاہیے تھا، مگر اس کے برعکس احتجاج کرنے والے طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس اقدام سے نہ صرف متاثرہ طلبہ بلکہ دیگر کشمیری نوجوانوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے۔
ماہرین تعلیم کا مؤقف ہے کہ اگر کسی خطے کے نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع سے محروم کیا جائے یا ان کی جائز شکایات کو دبایا جائے تو اس کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کو غیر جانبدار اور منصفانہ طرز عمل اپنانا چاہیے تاکہ طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوان پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں تعلیمی رکاوٹیں ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معطل شدہ طلبہ کے معاملات کو شفاف انداز میں دیکھا جائے اور ان کے تعلیمی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








