امریکا اور روس کے درمیان جوہری معاہدہ ختم، عالمی سلامتی کو درپیش خطرات بڑھ گئے

امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے والا اہم معاہدہ اپنی مدت پوری کر چکا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول کے مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
دو ہزار دس میں پراگ میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اور روسی صدر دمتری میدویدیف نے اسے حتمی شکل دی تھی۔
یہ معاہدہ اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی تعداد محدود کرتا ہے، ساتھ ہی باہمی معائنوں اور اعداد و شمار کے تبادلے کے ذریعے شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ پانچ فروری کو اس کی باضابطہ مدت ختم ہونے کے بعد واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان اعتماد کی فضا مزید کمزور ہوئی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے چند دن قبل کہا کہ روس اس معاہدے کی حدود کا احترام جاری رکھے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ امریکا بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ولادیمیر پوتن پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ روس طے شدہ حد سے تجاوز نہیں کرے گا، تاہم یہ پابندی امریکا کے رویے سے مشروط ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے حکام نے عارضی طور پر چھ ماہ تک موجودہ حدود پر عمل جاری رکھنے اور کسی نئے معاہدے پر بات چیت شروع کرنے پر بھی غور کیا۔ اس سلسلے میں ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر پوتن کی منظوری کا منتظر ہے۔
ادھر امریکی بحریہ مبینہ طور پر اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ غیر فعال لانچ ٹیوبز کو دوبارہ فعال کیا جائے اور بین البراعظمی میزائلوں پر مزید وارہیڈز نصب کیے جائیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے اقدامات تعینات جوہری ذخیرے میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں اور اسلحہ کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف ہے کہ سابقہ معاہدے میں چین کے بڑھتے ہوئے جوہری ذخیرے کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم بیجنگ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اس وقت تک سہ فریقی مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا جب تک اس کا جوہری ذخیرہ امریکا اور روس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
جوہری تجربات کی بحالی کے امکانات نے تشویش کو جنم دیا ہے۔ امریکا نے انیس سو بانوے کے بعد کوئی دھماکہ خیز جوہری تجربہ نہیں کیا، لیکن بعض بیانات سے اشارہ ملا ہے کہ اگر حریف ممالک نے پابندیوں کی خلاف ورزی کی تو امریکا بھی مساوی بنیادوں پر قدم اٹھا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا پہلے ہی ہزار سے زائد تجربات کر چکا ہے اور جدید سمیولیشن ٹیکنالوجی کے باعث نئے تجربات کی تکنیکی ضرورت محدود ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک نے غیر رسمی طور پر بھی موجودہ حدود کا احترام جاری نہ رکھا تو عالمی اسٹریٹجک استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق نئے معاہدے کے لیے بامعنی مذاکرات، باہمی اعتماد کی بحالی اور یکطرفہ توسیعی اقدامات سے گریز ہی اسلحہ کی نئی دوڑ کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار ایک فرد کے پاس ہونا بھی ایک بنیادی تشویش ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں سفارتی رابطوں اور نگرانی کے مؤثر نظام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے تاکہ امریکا اور روس کے درمیان ممکنہ جوہری مسابقت کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








