بھارت میں ہندوتوا پالیسیوں پر شدید تنقید، تعصب کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار

بھارت میں ہندوتوا نظریے پر کاربند حکومتی پالیسیوں کے خلاف آوازیں تیز ہونے لگی ہیں۔ مسلمانوں سمیت مختلف اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب، نفرت اور سماجی تقسیم کے رجحانات پر نہ صرف سماجی حلقے بلکہ علمی و فکری شخصیات بھی کھل کر اظہار خیال کر رہی ہیں۔
نامور بھارتی نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین نے ملک میں سیکولرزم کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں منظم انداز میں تنگ نظری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکولر اقدار کمزور پڑ چکی ہیں۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق امرتیہ سین نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ بھارت میں سیکولرزم کی حیثیت پر اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی سطح پر ایسے رجحانات کو تقویت مل رہی ہے جو معاشرے کو تقسیم اور عدم برداشت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سیکولرزم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ معاشرہ منظم انداز میں مسلط کی جانے والی تنگ نظری، تعصب اور ذہنی پسماندگی کا کس حد تک مقابلہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ رجحانات جاری رہے تو بھارت کی جمہوری اور کثیر الثقافتی شناخت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں حکومتی سرپرستی میں ہندوتوا سے وابستہ عناصر نفرت اور تقسیم کی فضا کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق انتہاپسند ہندو ریاست کے قیام کے لیے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان گٹھ جوڑ اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی نہ صرف داخلی استحکام کے لیے چیلنج ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ دانشور طبقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ جمہوریت، رواداری اور آئینی مساوات کے اصولوں کو عملی طور پر مضبوط بنائے بغیر ملک میں ہم آہنگی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










