بدھ، 18-فروری،2026
بدھ 1447/09/01هـ (18-02-2026م)

بھارتی انتہاپسندی کا سیاہ باب، سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

18 فروری, 2026 15:52

آج اٹھارہ فروری دو ہزار چھبیس کو سمجھوتہ ایکسپریس سانحے کو انیس برس مکمل ہو گئے، مگر اس اندوہناک واقعے کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

یہ سانحہ نہ صرف درجنوں خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ ثابت ہوا بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور ریاستی سرپرستی کے الزامات کی ایک علامت بھی بن گیا۔

اٹھارہ فروری دو ہزار سات کو دہلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پانی پت کے قریب دھماکے کا نشانہ بنی۔ بارودی مواد کے دھماکے کے بعد ٹرین کی بوگیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی جانیں نگل لیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے میں تینتالیس پاکستانی اور دس بھارتی شہریوں سمیت اڑسٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔ زیادہ تر متاثرین وہ تھے جو دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے اپنے پیاروں سے ملنے جا رہے تھے۔

ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا، مگر بعد میں انتہاپسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے تعلق رکھنے والے کمل چوہان کی گرفتاری نے کیس کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمل چوہان اور اس کے ساتھیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے دہلی سے روانہ ہونے والی ٹرین میں بارودی مواد نصب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کے تعلیمی اداروں میں بھی کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک، 33 شاگرد معطل

مزید انکشافات میں بھارتی فوج کے افسر کرنل پروہت کا نام بھی سامنے آیا، جن کے بارے میں بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ انہوں نے اس سانحے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

اسی طرح ابھیناو بھارت نامی تنظیم کا نام بھی سامنے آیا، جس کی بنیاد بھارتی فوجی میجر رمیش اپادھیائے اور لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت نے رکھی تھی۔

ان تمام معاملات نے اس واقعے کو محض ایک دہشت گردی کے حملے سے بڑھا کر ایک ایسے معاملے میں تبدیل کر دیا، جس میں ریاستی عناصر کی ممکنہ شمولیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

تاہم بعد ازاں بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی کی خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ اس فیصلے پر قانونی ماہرین اور مبصرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ شواہد کے برعکس تھا اور اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ریاستی مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔

پاکستان نے متعدد بار بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ اس سانحے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کا حق ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حملہ کسی مسلمان تنظیم سے منسوب ہوتا تو بھارتی عدالتی اور تفتیشی نظام کا ردعمل مختلف ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول، جس میں ہندتوا نظریے کو ریاستی پالیسی کا درجہ دیا جا چکا ہے، ایسے حساس مقدمات میں غیر جانبدار انصاف کے امکانات کو کمزور کر دیتا ہے۔

مبصرین کے نزدیک سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو انتہاپسندی، ریاستی سرپرستی کے الزامات اور عدالتی جانبداری کے مباحث کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔ انیس برس بعد بھی متاثرین کے لواحقین اس سوال کے ساتھ زندہ ہیں کہ آخر ان کے پیاروں کے خون کا حساب کب لیا جائے گا۔

یہ سانحہ آج بھی اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب دہشت گردی کے واقعات سیاسی اور نظریاتی مفادات کے تابع ہو جائیں تو انصاف کا حصول مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین کے لیے وقت گزرنے کے باوجود انصاف کی تلاش ابھی ختم نہیں ہوئی، اور یہ واقعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک دردناک باب کے طور پر محفوظ ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔