47 برس بعد بھی امریکہ اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ نہ کر سکا اور نہ کبھی کر سکے گا : رہبر اعلیٰ

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ گزشتہ سینتالیس برس میں اسلامی جمہوریہ ایران کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ان خیالات کا اظہار تبریز کی 1978 کی عوامی تحریک کی برسی کے موقع پر مشرقی آذربائیجان صوبے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں امریکی صدر کی جانب سے امریکی فوجی طاقت کے بار بار ذکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے مضبوط فوج بھی کبھی ایسا کاری وار سہہ سکتی ہے کہ دوبارہ کھڑی نہ ہو سکے۔ طاقت کے اظہار سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور نہ ہی اس سے کسی قوم کے عزم کو توڑا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ایران کی جانب امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی کے بیانات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ جنگی جہاز یقیناً خطرناک ہوتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہوتا ہے جو ایسے جہاز کو سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر نے حالیہ بیانات میں خود اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکہ گزشتہ سینتالیس برس میں اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ نہیں کر سکا۔ انہوں نے اس اعتراف کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب اتنے عرصے میں یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا تو آئندہ بھی ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ یہ حقیقت خود امریکی قیادت کے بیان سے واضح ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قومی اتحاد ملک کی طاقت کے لیے انتہائی قیمتی ہے : ایرانی سپریم لیڈر
انہوں نے امریکی بیانات کو ایران پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی دھمکی دی جاتی ہے، کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کام کرنا ہو گا اور فلاں نہیں کرنا ہو گا، یہ سب دراصل ایرانی قوم کو زیرنگیں کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی مذہبی، تاریخی اور تہذیبی شناخت کے باعث کسی بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے اس تاریخی قول کا حوالہ دیا کہ میرے جیسا شخص یزید جیسے فرد کی بیعت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قوم جس کی تاریخ، ثقافت اور عقائد اس قدر مضبوط ہوں، وہ آج امریکہ میں برسر اقتدار افراد جیسے عناصر کے سامنے جھک نہیں سکتی۔
ایران کے رہبر اعلیٰ نے جوہری توانائی کے حق کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ یورینیم کی افزودگی سمیت پرامن جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ضوابط کے تحت ایران کا تسلیم شدہ حق ہیں۔ انہوں نے بیرونی دباؤ کو غیر منطقی طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قانونی اور سویلین جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مضبوط دفاعی صلاحیت قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک مناسب دفاعی طاقت نہیں رکھتے وہ بیرونی دباؤ اور جارحیت کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ ایران کی عسکری تیاریوں کو جارحیت نہیں بلکہ دفاع اور بازدار قوت کا لازمی تقاضا قرار دیا۔
ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے حالیہ مسلح بدامنی کا ذکر کیا اور کہا کہ چند سرغنوں اور دشمن عناصر سے وابستہ افراد کے سوا، ان واقعات میں جان گنوانے والے تمام افراد خواہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہوں، عام شہری ہوں یا وہ لوگ جو گمراہ کیے گئے، سب کو قوم کے اپنے بچے سمجھا جاتا ہے۔ قوم ان سب کے غم میں شریک ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتی ہے۔
انہوں نے ان واقعات کو خود رو احتجاج نہیں بلکہ ایک منظم بغاوت اور منصوبہ بند سازش قرار دیا، جسے ایرانی عوام نے ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی بیداری اور ریاستی اداروں کی کوششوں کے باعث یہ منصوبہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے حکومتی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ معاشی دباؤ کم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور قومی کرنسی کی قدر کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ داخلی اور خارجی چیلنجز کے باوجود اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












