جنوبی کوریا کے سابق صدر کو بغاوت کے جرم میں عمر قید

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے 2024 میں مارشل لا کے نفاذ کے ذریعے ریاستی نظام کو مفلوج کرنے اور منتخب اداروں کو دباؤ میں لینے کی کوشش کی، جو آئینی نظم کے خلاف سنگین اقدام تھا۔
پینسٹھ سالہ قدامت پسند رہنما نے دسمبر 2024 میں اچانک قوم سے خطاب کرتے ہوئے مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ قومی اسمبلی میں موجود مبینہ طور پر ریاست مخالف عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس اعلان کے فوراً بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور بالآخر انہیں مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق صدر نے سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے اسمبلی کی عمارت کی جانب فوجی دستے روانہ کیے تاکہ حکومتی پالیسیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو طاقت کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی کوریا کے رہنما بیٹی کو جانشینی کے لیے تیار کر رہے ہیں : جنوبی کوریا
سیول کی مرکزی ضلعی عدالت میں سماعت کے دوران جج جی گوئی یون نے کہا کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مارشل لا کا مقصد ایک قابلِ ذکر مدت تک اسمبلی کو مفلوج کرنا تھا۔ جج کے مطابق اس اقدام سے معاشرے کو بھاری سماجی اور سیاسی قیمت ادا کرنا پڑی اور یہ بھی نظر نہیں آیا کہ ملزم نے کسی مرحلے پر اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کیا ہو۔
عدالت نے بغاوت کے الزام میں انہیں عمر قید کی سزا سناتے ہوئے واضح کیا کہ یہ فیصلہ آئین اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔ استغاثہ نے جنوری میں ہونے والی سماعتوں کے دوران عدالت سے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا تھا اور سزائے موت کی درخواست بھی کی تھی۔ تاہم جنوبی کوریا میں 1997 کے بعد سے سزائے موت پر غیر اعلانیہ پابندی چلی آ رہی ہے، اس لیے عملاً عمر قید ہی سب سے بڑی سزا تصور کی جاتی ہے۔
اسی مقدمے میں سابق وزیر دفاع کم یونگ ہیون کو بحران میں کردار ادا کرنے پر تیس برس قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اعلیٰ سطحی حکام نے آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے سیاسی عمل میں مداخلت کی کوشش کی۔
فیصلے سے قبل ہزاروں حامی عدالت کے باہر جمع ہو گئے تھے۔ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر سابق صدر کے حق میں نعرے درج تھے اور مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









