صدر ٹرمپ کا خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری ریکارڈ منظرِ عام پر لانے کا حکم

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارتِ دفاع اور دیگر وفاقی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ خلائی مخلوق، نامعلوم فضائی مظاہر اور اڑن طشتریوں سے متعلق سرکاری ریکارڈ کو عوام کے سامنے پیش کریں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ وہ وزیرِ دفاع اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کو ہدایت دیں گے کہ خلائی زندگی کی تلاش سے وابستہ تمام دستیاب فائلوں کی نشاندہی کر کے انہیں جاری کیا جائے۔
یاد رہے کہ صدر باراک اوباما کے حالیہ بیان کے بعد عوامی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ باراک اوباما نے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے زمین سے باہر زندگی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اپنی صدارت کے دوران انہیں زمین پر کسی خلائی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر پر خفیہ معلومات ظاہر کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ وہ متعلقہ خفیہ فائلیں عام بنا کر معاملے کو واضح کر سکتے ہیں۔ تاہم صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں رکھتے کہ خلائی مخلوق واقعی موجود ہے یا نہیں۔
اسی دوران صدر کی بہو لارا ٹرمپ نے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا کہ صدر کے پاس خلائی مخلوق کے موضوع پر ایک خصوصی خطاب تیار ہے، جو مناسب وقت پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس دعوے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے کسی صدارتی خطاب سے وہ لاعلم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا نیا اسمارٹ سیٹلائٹ نظام متعارف، خلائی اور دفاعی طاقت میں اضافہ
غیر تصدیق شدہ فضائی مظاہر کے بارے میں عوامی توجہ 2017 میں اس وقت بڑھی جب وزارتِ دفاع اور خفیہ اداروں کے سابق اہلکاروں نے بحریہ کی ایسی ویڈیوز منظرِ عام پر لائیں جن میں فضاء میں نظر آنے والی نامعلوم اشیاء دکھائی گئی تھیں۔
بعد ازاں کانگریس نے 2022 میں نصف صدی بعد پہلی بار اس موضوع پر سماعت بھی کی، جہاں حکام نے ان اشیاء کو بغیر پائلٹ کے فضائی آلات قرار دیا۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے سال 2024 میں جاری کی گئی ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اب تک کسی بھی نامعلوم فضائی مظہر کو خلائی مخلوق سے جوڑنے کا مصدقہ ثبوت نہیں ملا۔
حکام کے مطابق فوج کو موصول ہونے والی زیادہ تر رپورٹس کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی، تاہم جن واقعات کی وضاحت ممکن ہوئی، ان کی عام سائنسی یا تکنیکی توجیہ سامنے آئی۔
صدر ٹرمپ کی حالیہ ہدایت کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ سرکاری فائلوں کے اجرا کے بعد کون سے نئے حقائق سامنے آتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









