ٹرمپ کا امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں غزہ کیلئے اربوں ڈالر امداد اور عالمی فورس کا اعلان

امریکی صدر کی زیر صدارت غزہ کے لیے قائم امن کونسل کا پہلا اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا، جس میں پینتالیس سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔
واشنگٹن میں امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ نو ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں سات ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ ممالک نے فلسطینی علاقے میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے اپنی افواج بھیجنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خود بھی امن بورڈ کے لیے دس ارب ڈالر فراہم کرے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کن منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ ان کے مطابق قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ابتدائی رقم جمع کروا دی ہے۔
انہوں نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر خطے میں استحکام اور ایک ہم آہنگ مستقبل کی امید میں سرمایہ کاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن بورڈ یہ ثابت کر رہا ہے کہ بہتر مستقبل کی بنیاد اسی کمرے میں رکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسووو اور البانیہ نے غزہ کے لیے مجوزہ استحکامی فورس میں فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ مصر اور اردن نے پولیس اہلکاروں کی تربیت کی ذمہ داری لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ کی صورتحال اور بورڈ آف پیس کا اجلاس: پاکستان کا دوٹوک مؤقف
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے اعلان کیا کہ ان کا ملک امن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آٹھ ہزار تک فوجی فراہم کرے گا۔ منصوبے کے مطابق یہ فورس ایک امریکی جنرل کی قیادت میں کام کرے گی، جبکہ انڈونیشیا کا نائب کمانڈر ہوگا۔
فورس کا آغاز اسرائیلی کنٹرول میں موجود شہر رفح سے کیا جائے گا، جہاں نئی پولیس فورس کی تربیت کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت بارہ ہزار پولیس اہلکار تیار کرنے اور بیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاہم حماس نے اسرائیل کی جانب سے جاری روزانہ حملوں کے تناظر میں ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کا کردار جنگ بندی کی نگرانی اور اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلح ہونے کا معاملہ زیر بحث آ سکتا ہے لیکن اس پر حتمی موقف نہیں دیا گیا۔
چالیس سے زائد ممالک اور یورپی یونین نے اجلاس میں نمائندے بھیجنے کی تصدیق کی۔ جرمنی، اٹلی، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ سمیت ایک درجن سے زائد ممالک نے بورڈ میں شمولیت اختیار نہیں کی تاہم وہ مبصر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









