ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

مودی حکومت کی ناکام خارجہ حکمت عملی، امریکی دباؤ کے آگے جھک کر قومی مفادات داؤ پر لگا دیے

21 فروری, 2026 13:17

بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے کے بعد ملک میں سیاسی اور معاشی بحث تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے اثرات زرعی شعبے پر پڑ سکتے ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ India Decode کی رپورٹ کے مطابق امریکا سے زرعی اجناس کی درآمد میں نرمی سے مقامی کسانوں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مکئی، کپاس، سویا بین اور پھل کم ڈیوٹی پر درآمد ہوئے تو مقامی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

کانگریس رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے بیان دیا کہ بھارت پہلے ہی امریکا سے کروڑوں ڈالر کی کپاس درآمد کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے مقامی کاشتکار متاثر ہو رہے ہیں۔ پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر جیسے صوبوں میں کپاس کی فروخت سست ہے اور قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم قیمت درآمدی اجناس کی وجہ سے مقامی کسان قرض کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ بعض کاشتکار زیادہ منافع والی فصلوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے کپاس کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کو امریکی منڈی میں زیرو ڈیوٹی کی سہولت ملتی ہے تو اس کی ٹیکسٹائل صنعت کو فائدہ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں بھارتی برآمدکنندگان کو زیادہ ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے مسابقت میں فرق آ سکتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی تجارتی شراکت داری طویل مدت میں معیشت کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے واضح حکمت عملی ضروری ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی تجارتی معاہدے کے اثرات کا مکمل اندازہ وقت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کے تحفظ، سبسڈی پالیسی اور برآمدی حکمت عملی پر توجہ دینا ضروری ہوگا تاکہ مقامی صنعت اور زرعی شعبہ متوازن رہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔