مسلم ممالک کے ردعمل کے بعد اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر اپنے بیان سے مکر گئے

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہہ کر شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی مذہبی تشریحات کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اس بیان کے بعد پورے عرب ملکوں بالخصوص سعودی عرب اور عرب لیگ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
مائیک ہکابی نے اپنے انٹرویو میں بائبل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کی جغرافیائی سرحدیں دریائے فرات سے لے کر دریائے نیل تک پھیلی ہوئی ہیں، جس میں موجودہ لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کو یہ تمام علاقے لے لینے چاہئیں، تو انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک ہوگا۔
اس اشتعال انگیز بیان پر جب عالمی سطح پر احتجاج شروع ہوا تو مائیک ہکابی نے سوشل میڈیا پر صفائی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور انٹرویو کے دوران ان کی مکمل بات کو کاٹ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت
انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ عرب لیگ کو ایک نئے مترجم کی ضرورت ہے۔ تاہم، ان کے اس موقف کو عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جا رہا کیونکہ انٹرویو کی مکمل ریکارڈنگ انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ایسا شخص جو کھلے عام اسرائیلی توسیع پسندی کی حمایت کر رہا ہو، وہ امریکا کا سفیر رہنے کے لائق نہیں ہے اور اسے فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مائیک ہکابی کے یہ نظریات نہ صرف انتہا پسندانہ ہیں بلکہ یہ امریکا کی قائم شدہ خارجہ پالیسی کے بھی خلاف ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بعد میں اپنے بیان کو مبالغہ آرائی قرار دینے کی کوشش کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر اسرائیل پر حملے ہوئے اور وہ جنگ جیت کر زمین پر قبضہ کر لے تو یہ ایک الگ بحث ہوگی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












