ایران، امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے

امریکی جریدے ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ ایک طویل علاقائی محاذ آرائی کی تیاری کر رہا ہے۔
تجزیہ نگار سجاد صفائی نے لکھا کہ تہران کا اندازہ ہے کہ واشنگٹن طویل اور مہنگی جنگ کے لیے سیاسی عزم نہیں رکھتا، اسی لیے ایران اپنی حکمت عملی کو نئی سمت دے رہا ہے۔
جون 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری بارہ روزہ جنگ کے آخری ایام میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کا حکم دیا۔
اس کارروائی کو آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کا نام دیا گیا۔ اس حملے نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا اور یہ پیغام دیا کہ واشنگٹن براہ راست ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔
تجزیے کے مطابق اس مختصر مگر شدید کشیدگی نے تہران کو دوہرا پیغام دیا۔ ایک طرف امریکہ نے طاقت کا استعمال کیا، دوسری طرف ایران پر جوابی حملوں کے بعد حالات کو امن اور ہم آہنگی کی طرف لے جانے کی بات کی اور بعد ازاں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کیا۔
اس طرز عمل سے ایرانی قیادت کو یہ تاثر ملا کہ امریکہ محدود اور کنٹرول شدہ کارروائیوں تک تو جا سکتا ہے لیکن طویل اور کھلی جنگ سے ہچکچاتا ہے۔
ایران میں اس جنگ کے بعد ایک نفسیاتی تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔ اس سے پہلے ایرانی قیادت مکمل جنگ سے بچنے کو ہر قیمت پر ضروری سمجھتی تھی، تاہم جون 2025 کے واقعات کے بعد تہران نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ پہلے ہی محدود جنگوں کے ایک تسلسل میں داخل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف میرا ہوگا : صدر ٹرمپ
ایرانی مؤقف کے مطابق اگر وہ ہر بار کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے اس کی سلامتی کی ضمانت نہیں ملے گی بلکہ مزید دباؤ بڑھے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے حال ہی میں خبردار کیا کہ اگر اس بار جنگ شروع ہوئی تو وہ علاقائی جنگ ہوگی۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کی عسکری قوت اگرچہ امریکہ کے برابر نہیں، لیکن طویل مزاحمت کی صلاحیت میں وہ خود کو برتر سمجھتا ہے۔ بعض اوقات کمزور فریق بھی زیادہ برداشت اور مستقل مزاجی کے ذریعے طاقتور ملک کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
اسی دوران شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی کمزور پوزیشن نے ایران کے علاقائی اثاثوں کو محدود کیا ہے، مگر اس کے باوجود تہران پسپائی کے بجائے مکمل تیاری کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ واشنگٹن نے مکمل جنگ کے غیر متوقع اور تباہ کن نتائج کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس تناظر میں 2015 کا جوہری معاہدہ، جسے مشترکہ جامع منصوبہ عمل کہا جاتا تھا، دوبارہ موضوع بحث ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک مکمل علاقائی جنگ، جس کے دائرہ کار پر اس کا کنٹرول نہیں ہوگا، اور دوسرا ایک ایسا جوہری تصفیہ جو اگرچہ مکمل طور پر امریکی مؤقف کے مطابق نہ ہو، مگر خطے کو کھلی جنگ سے بچا سکتا ہے۔
اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو آئندہ تصادم جون 2025 جیسا محدود نہیں ہوگا بلکہ کہیں زیادہ وسیع اور دردناک ہو سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












