ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کیلئے جنیوا پہنچ گئے، عمانی ہم منصب سے ملاقات

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا تیسرا دور سوئٹزرلینڈ میں ہونے جا رہا ہے، دونوں جانب سے سخت بیانات، نئی پابندیاں اور خطے میں فوجی تیاریوں نے فضا کو کشیدہ بنا رکھا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچے، جہاں وہ اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ملے جو بالواسطہ مذاکرات میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے جینیوا روانگی سے قبل کہا کہ منصفانہ اور متوازن معاہدہ ممکن ہے اور ایران ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتا لیکن پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : دشمن جنگ تو شروع کرسکتے ہیں، ختم کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہوگا : ایرانی نائب وزیر خارجہ
واشنگٹن میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر اس نے پروگرام دوبارہ شروع کیا تو مسائل پیدا ہوں گے۔
دوسری جانب ماہرین اور سفارت کاروں نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران ایٹمی بم بنانے کے قریب ہے۔ سابق اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کار ڈیوڈ البرائٹ اور سابق امریکی عہدیدار رابرٹ آئن ہارن نے کہا کہ افزودگی مؤثر طور پر معطل ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی گزشتہ برس کہا تھا کہ جون کے حملوں کے بعد ایران نے افزودگی دوبارہ شروع نہیں کی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












