ایران پر پہلا حملہ اسرائیل کرے، امریکہ میں مشاورت

اطلاعات کے مطابق امریکی قیادت کے اندر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف پہل اسرائیل کرے تاکہ بعد ازاں امریکہ کو کارروائی کا جواز مل سکے۔
جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی پروگرام پر مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو چکے ہیں، مگر سفارتی سرگرمیوں کے پس منظر میں عسکری تیاریوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر جاری مشاورت سے واقف دو ذرائع کے مطابق فوجی آپشن اب بھی میز پر موجود ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کا سفاکانہ ‘غزہ ماڈل’ نافذ کر رکھا ہے : الجریزہ
امریکی جریدے پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں بعض اعلیٰ حکام اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوں تو ایران کے خلاف پہلا حملہ اسرائیل کی جانب سے کیا جائے۔
اس سوچ کے پیچھے دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ اگر اسرائیل پہل کرے اور اس کے جواب میں ایران امریکی مفادات یا اڈوں کو نشانہ بنائے تو امریکہ کو براہ راست کارروائی کے لیے داخلی سطح پر زیادہ مضبوط عوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن کے فیصلہ ساز حلقوں سے وابستہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی امریکہ کو عملی قدم اٹھانے کا ٹھوس جواز فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ زیادہ قابل امکان منظرنامہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ہو سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












