جنیوا میں ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات ختم، بنیادی اختلافات برقرار

ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور اختتام پذیر ہو گیا۔ عمان نے نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اہم معاملات پر دونوں فریقین کے مؤقف میں بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
ایران کے شہر تہران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے حکام کے درمیان جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا تازہ دور جمعرات کو ختم ہو گیا۔
ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے دعویٰ کیا کہ بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب تک ایسی کوئی واضح علامت سامنے نہیں آئی، جس سے ظاہر ہو کہ دونوں فریق اپنے مؤقف میں اس حد تک لچک دکھانے کو تیار ہیں کہ ممکنہ جنگ کے خطرے کو مکمل طور پر ٹالا جا سکے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے اختتام پر کہا کہ آئندہ ہفتے ویانا میں مزید تکنیکی بات چیت ہوگی اور اب تک کی پیش رفت مثبت رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ، ایران کے جنیوا مذاکرات میں بیلسٹک میزائلوں پر بات سے انکار پر نالاں
ان کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کے سب سے سنجیدہ اور طویل مذاکرات تھے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ عراقچی کی امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے مختصر ملاقات بھی ہوئی۔
ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی کر رہے تھے، جنہوں نے بدھ کی شب تہران کی تحریری تجاویز عمانی وزیر خارجہ کے حوالے کیں تھیں۔
بعد ازاں عمانی وزیر خارجہ نے امریکی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے تھے۔ عمانی وزیر خارجہ نے دن بھر دونوں وفود کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرایا جبکہ امریکی وفد نے یوکرین سے متعلق الگ مشاورت بھی کی۔
مذاکرات میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی بھی شریک ہوئے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی صورت میں ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق کی ذمہ داری اسی ادارے کو سونپی جائے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












