ایران پر اسرائیل و امریکی حملہ؛ ایران کا جواباً اسرائیل پر حملہ، بحرین، قطر، کویت اور ابوظبی میں امریکی اڈوں پر بھی وار

اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا، اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ
امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ شمالی علاقوں میں میزائل حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق تہران کے مشرق میں ایک دھماکا ہوا، جبکہ شمالی علاقوں میں مزید دو دھماکے ہوئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق اسرائیل نے مہرآباد ائیرپورٹ، اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی حملے کیے۔ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب سات میزائل گرے۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی ڈیل نہ ہونے پر ناراض تھے اور اس آپریشن کا منصوبہ مہینوں قبل تیار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی دفاعی اہلکاروں کے مطابق ایران پر حملوں کی تاریخ بھی ہفتوں قبل طے کی گئی تھی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایران نے فضائی حدود بند کر دی ہیں اور عراق نے بھی اپنی فضائی ٹریفک معطل کر دی ہے۔
ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کی تیاری جاری ہے اور ردعمل سخت ہوگا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی ایران پر پیشگی حملوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ یہ کارروائی اسرائیل کے لیے ممکنہ خطرات ختم کرنے کے مقصد سے کی گئی۔
اسرائیل بھر میں اسکول بند، عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے ہیں۔
قطر میں امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت دی گئی ہے اور کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کے لیے فوری ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں اسکول بند، عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت اور عوامی اجتماعات پر پابندی نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس سمیت متعدد علاقوں میں سائرن بجنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی وزیر انٹیلی جنس سید خطیب زادہ کی شہادت کی اطلاع
تہران پر حملے میں ایران کے وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب شہید ہوگئے، اسماعیل خطیب ایرانی عالم اور سیاستدان تھے۔ وہ اگست 2021 سے انٹیلی جنس کے وزیر تھے۔
حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر کا گھر، انقلابی گارڈز کا انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر اور صدارتی عمارت بھی نشانہ بنائی گئی۔ اسرائیلی فضائی حملے اصفہان کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کی عمارت پر بھی حملے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
ایران نے جاری حملوں کے دوران اپنا پورا فضائی علاقہ بند کر دیا ہے۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام "شیلڈ آف جیوز” رکھا ہے۔
ایرانی جوابی کارروائی، اسرائیل پر میزائل داغ دیے گئے
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے بھی ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل فائر کر دیے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل ملک کے شمالی علاقوں کی سمت داغے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فضائی دفاعی نظام مسلسل کام کر رہا ہے۔
ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی انتظامیہ نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں جانب ہائی الرٹ برقرار ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کو جڑ سے ختم کردیں گے، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی عوام کی سیکیورٹی یقینی بنانا اور ایرانی رجیم کی جانب سے لاحق خطرات کو ختم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایرانی میزائلوں اور بحریہ کے خطرات کو ختم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل اور صنعت کو تباہ کیا جائے گا تاکہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ آپریشن کے دوران امریکی فوجیوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، تاہم امریکی عوام کا دفاع اولین ترجیح ہے۔
مشترکہ حملوں کے بعد تہران کا انتباہ، نتائج قابو سے باہر ہوں گے
تہران: امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے سخت ردعمل کی تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ حملوں کے نتائج اب حملہ آوروں کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ایران نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا، لیکن اب مخالفین نے ایسی راہ اختیار کی ہے جس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ تہران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ ایران مکمل جوابی کارروائی کی تیاری میں ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا جواب “انتہائی سخت اور فیصلہ کن” ہوگا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور دفاع کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا
خبر رساں ایجنسی کے رپورٹرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں زور دار آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ تاحال دھماکوں کی نوعیت اور اسباب کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بحرین میں امریکی نیوی کا پانچواں بیڑہ تعینات ہے، جس کی موجودگی کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
یہ واقعہ بحرین کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری سلسلہ وار الرٹس کے بعد پیش آیا۔ الرٹس میں بتایا گیا تھا کہ ہنگامی سائرن بجائے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









