ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر بڑا حملہ، ستائیس امریکی فوجی اڈے اور اہم اسرائیلی تنصیبات نشانہ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف کارروائیوں کے چھٹے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ خطے میں موجود ستائیس امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کے اہم دفاعی و عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری میڈیا کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر ہونے والی اسرائیلی اور امریکی بمباری کے جواب میں انتقامی کارروائیوں کے چھٹے مرحلے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں اسرائیل اور خطے میں موجود ستائیس امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے ہیں۔
ان حملوں میں اسرائیل کے تل نوف فضائی اڈے، تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر ہاکیریا اور اسی شہر میں واقع ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کے سپریم لیڈر اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کی جا رہی ہیں اور حملوں کی یہ چھٹی لہر انتہائی شدید نوعیت کی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایرانی افواج پے در پے ضربوں کے ذریعے بدلے کے ایک مختلف اور سخت ترین مرحلے کا آغاز کریں گی جو دشمن کے لیے پشیمانی کا باعث بنے گا۔
ان حملوں کے نتیجے میں قطری دارالحکومت دوحہ کی فضاؤں میں کم از کم گیارہ زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
قطر کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کے آغاز سے اب تک سولہ افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر مادی نقصان بھی ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سفارتی حل اب آسان ہو گیا، ایران کا ردعمل توقع سے کمزور رہا : ٹرمپ
اسی طرح دبئی میں بھی کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جن کی مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل میں میزائل حملوں کے پیشِ نظر ملک بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔
عراق کے شمالی علاقے اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد وہاں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اربیل ہوائی اڈے کو ایران کی جانب سے دو بار نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں اب بھی امریکی فوج موجود ہے۔ اردن کے دفاعی نظام نے بھی دارالحکومت عمان اور شمالی علاقوں کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی طبی امدادی ادارے کے مطابق ان حملوں میں اب تک ایک اسرائیلی خاتون ہلاک اور ایک سو اکیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے اکثر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا ہے، تاہم کچھ میزائل تل ابیب اور بیت شمس میں گرنے میں کامیاب رہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ کے قریب میزائلوں کے ٹکڑے گرے ہیں، جن کے بارے میں تاحال واضح نہیں کہ وہ ایرانی میزائل تھے یا اسرائیلی دفاعی نظام کے ٹکڑے جو غیر قانونی بستیوں کو بچانے کے لیے فلسطینی علاقوں پر گرے۔
اسرائیلی دفاعی نظام صرف اسرائیلیوں اور آباد کاروں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے جبکہ فلسطینی اس جنگ میں مکمل طور پر بے یار و مددگار ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








