امریکا اور اسرائیل کا خواب ادھورا : خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی ایران کا نظام مکمل فعال

ابصار عالم کا کہنا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایران کا نظام پوری طرح فعال دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کے خاتمے کے امکانات بھی فی الحال نظر نہیں آ رہے۔
سینئر صحافی ابصار عالم نے حالیہ پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اس دنیا میں نہیں رہے اور اگر انہیں صبح دس بجے نشانہ بنایا گیا، تب بھی اس کے بعد اٹھارہ سے بیس گھنٹوں تک ایران پر مسلسل حملے ہوتے رہے۔
ان کے مطابق اس تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا ریاستی نظام ان کی عدم موجودگی میں بھی کام کر رہا ہے اور حکومتی کنٹرول کمزور نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کا سربراہ اچانک منظر سے ہٹ جائے اور اس کے باوجود دفاعی اور انتظامی ڈھانچہ متحرک رہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ادارے مضبوط ہیں۔
ان کے بقول ایران میں بھی یہی صورت حال دکھائی دے رہی ہے کہ نظام بدستور فعال ہے اور ریاستی مشینری اپنے دائرہ اختیار میں کام کر رہی ہے۔
سینیئر صحافی نے کہا کہ اگر واقعی قیادت میں کوئی بڑی تبدیلی ہوئی بھی ہے تو ایران نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور نظام کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی جانب سے جس نظام کی تبدیلی کا خواب دیکھا جا رہا تھا، وہ کم از کم فوری طور پر پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
یہ بھی پڑھیں : سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟
ابصار عالم نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعض ماہرین کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے امریکا کو کوئی فوری تزویراتی فائدہ نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کہ نئی قیادت پہلے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرے۔ اگر کوئی سخت گیر رہنما سامنے آیا تو وہ پالیسی کے اعتبار سے زیادہ جارحانہ اور غیر لچکدار رویہ بھی اپنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی عوام کو سڑکوں پر آنے کی اپیلیں اور مبینہ طور پر مواصلاتی نظام کے ذریعے پیغامات بھیجنے کی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ براہ راست فوجی مداخلت آسان نہیں۔
ان کے بقول اگر ان ممالک کے پاس ایران میں براہ راست داخل ہونے اور عملی قبضہ کرنے کی ہمت یا گنجائش ہوتی تو وہ ایسے بالواسطہ طریقے اختیار نہ کرتے۔
ابصار عالم کے مطابق امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ ایران میں حکومتی نظام کے خلاف اس قدر وسیع عوامی حمایت موجود نہیں کہ فوری طور پر حکومت گر جائے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت برقرار ہے اور موجودہ حالات میں اس کے گرنے کے امکانات بھی واضح طور پر دکھائی نہیں دیتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صورت حال اتنی سنگین نہیں جتنی ابتدائی طور پر محسوس ہو رہی تھی۔ ایران نے جس انداز میں ردعمل دیا اور اپنی حکمت عملی ترتیب دی، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس پر دباؤ ضرور ہے لیکن وہ مکمل طور پر غیر مستحکم نہیں ہوا۔
علاقائی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ایران نے بعض عرب ہمسایہ ممالک کو سفارتی سطح پر یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ جہاں سے اس پر حملے ہو رہے ہیں وہ انہی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان ممالک کو براہ راست نقصان پہنچانا مقصود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اطلاعات کے مطابق دبئی میں ہوٹلوں اور دیگر عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں مبینہ طور پر امریکی یا اسرائیلی اہلکار موجود ہو سکتے تھے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ابصار عالم کے مطابق آئندہ دنوں میں صورت حال کس سمت جاتی ہے، اس کا انحصار خطے کی سیاسی و عسکری پیش رفت پر ہوگا، تاہم فی الوقت ایران کا ریاستی ڈھانچہ قائم اور متحرک دکھائی دیتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








