ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد میزائل حملے میں شہید

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد ایک میزائل حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کے دفتر اور سرکاری ذرائع نے شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اسرائیل اور امریکا کی کارروائی قرار دیا ہے۔
ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دفتر نے مختصر اعلان میں بتایا کہ وہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے میں اپنے متعدد ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کی مذمت بھی کی۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہفتے کے روز تہران کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک میزائل حملے میں محمود احمدی نژاد شہید ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں : اپنے دفاع کے لیے ہماری کوئی حد یا حدود نہیں ہیں، ایرانی وزیرخارجہ
پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اس حملے میں ان کے تین محافظ بھی شہید گئے۔ تاہم حملے کے مقام اور نوعیت سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
محمود احمدی نژاد ایران کے چھٹے صدر تھے۔ وہ ایک استاد اور سیاست دان کی حیثیت سے بھی جانے جاتے تھے۔ انہوں نے تین اگست دو ہزار پانچ کو اپنے حریف اکبر ہاشمی رفسنجانی کو صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں شکست دے کر صدارت سنبھالی۔
بارہ جون دو ہزار نو کو وہ اپنے مد مقابل میر حسین موسوی کے خلاف دوبارہ منتخب ہوئے اور پندرہ جون دو ہزار تیرہ تک منصب صدارت پر فائز رہے۔
اٹھائیس اکتوبر انیس سو چھپن کو گرمسار کے قریب گاؤں آرادان میں پیدا ہونے والے احمدی نژاد ایک لوہار کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی پرورش تہران میں ہوئی جہاں انہوں نے ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے حامی انہیں سادہ طرز زندگی اپنانے والا رہنما قرار دیتے تھے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









