ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش، 9 ہلاک، شہری بنکر میں محصور

ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنے میزائل حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دسویں لہر شروع کر دی ہے، جس نے اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی دسویں لہر نے صیہونی ریاست اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے رہائشیوں کے لیے صورتحال زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان کے پاس اسرائیل کی طرح جدید الرٹ سسٹم، فضائی حملے کے سائرن یا مضبوط پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں۔
رات کے پہلے حصے میں حملوں کی شدت کم تھی، لیکن صبح ہوتے ہی ایران کی طرف سے بھاری بمباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے بعد مختلف علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ دھماکے میزائلوں کے گرنے سے ہوئے ہیں یا اسرائیل کے دفاعی نظام کی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : انتہاپسند مودی کو مسلم نسل کشی اور اسرائیل نواز پالیسی پر کڑی تنقید کا سامنا
اسرائیلی شہر بیت شیمش میں، جو مغربی یروشلم کے قریب واقع ہے، ایک میزائل کے ٹکڑے پناہ گاہ پر گرنے سے نو اسرائیلیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس واقعے نے اسرائیل کے اندر حفاظتی پناہ گاہوں کی افادیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اسرائیلیوں کو ماضی کی نسبت زیادہ طویل وقت پناہ گاہوں میں گزارنا پڑ رہا ہے۔
جون میں ہونے والی لڑائی کے برعکس، اب لوگوں کو ایک وقت میں تین تین گھنٹے بنکروں میں رہنا پڑ رہا ہے، جو ایران کے میزائل حملوں کی شدت اور تسلسل کا واضح ثبوت ہے۔
ایران کے ان حملوں نے اسرائیل کے روزمرہ کے معمولات کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ میزائلوں کو روک رہا ہے، لیکن زمین پر ہونے والی تباہی اور ہلاکتیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کا جواب ہیں اور جب تک اشتعال انگیزی ختم نہیں ہوتی، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










