شہید علی خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ کو ایران کا نیا سپریم لیڈر چن لیا گیا؟

ایران میں سیاسی تبدیلیوں کا عمل تیز ہو گیا ہے جہاں سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر مقرر کیا گیا ہے، جس کی ایرانی حکام نے تردید کی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران کی ماہرین کی مجلس (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے پاسدارانِ انقلاب کے دباؤ پر شہید سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت سونپنے کا مقصد ملک کے اندر استحکام پیدا کرنا اور مزاحمتی قوتوں کو یکجا کرنا بتایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف ایرانی خبر رساں ادارہ فارس کا کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں، کسی بھی نئے لیڈر کا انتخاب اب تک عمل میں نہیں آیا۔
انیس سو انہتر میں پیدا ہونے والے سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ ان کا نام پہلی بار سن دو ہزار چار میں اس وقت نمایاں ہوا، جب صدارتی امیدوار مہدی کروبی نے ایک کھلے خط میں ان پر پس پردہ سیاسی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس خط کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کے کردار پر اندرون ملک اور بیرون ملک حلقوں میں بحث شروع ہو گئی تھی۔
سن دو ہزار دس تک مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا جانے لگا۔ خاص طور پر رہبر اعلیٰ کے دفتر میں ان کے ممکنہ اثر و رسوخ کے حوالے سے انہیں غیر معمولی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق وہ اگرچہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، تاہم اہم فیصلوں میں ان کے کردار سے متعلق قیاس آرائیاں طویل عرصے سے جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شہید سپریم لیڈر کی تدفین کی تیاریاں جاری، آخری آرام گاہ مشہد میں ہوگی
ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان رہبری کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت چیئرمین آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی نے کی۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مجلس خبرگان کے دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کے سبب اجلاس گزشتہ رات آن لائن منعقد کیا گیا۔
اجلاس کے دوران نئے رہبر اعلیٰ کے لیے چند اہم نام سامنے آئے جن میں آیت اللہ علی رضا اعرافی، آیت اللہ غلام حسین محسنی اژہ ای، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اور آیت اللہ احمد خاتمی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر خصوصی طور پر بحث جاری ہے اور ان کے ممکنہ انتخاب کے حوالے سے اراکین اپنی آرا پیش کر رہے ہیں۔
ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب ایک نہایت اہم آئینی اور مذہبی عمل سمجھا جاتا ہے جس میں مجلس خبرگان رہبری کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
موجودہ حالات میں یہ فیصلہ نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اجلاس کے اختتام اور حتمی فیصلے کے حوالے سے سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












