بدھ، 4-مارچ،2026
بدھ 1447/09/15هـ (04-03-2026م)

ایران، عراق نہیں، زمینی فوج اتارنا امریکی فوجیوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا : ماہرین

04 مارچ, 2026 10:39

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یہ سوال تیزی سے سر اٹھا رہا ہے کہ کیا امریکہ ایران کے خلاف فضائی اور بحری حملوں کے بعد اب زمینی فوج بھی میدان میں اتارے گا؟

قطر کے ذرائع ابلاغ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب تک امریکہ نے صرف فضائی اور بحری حملوں پر انحصار کیا ہے اور زمینی حملے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد بھی نہیں کیا۔

جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا امریکی افواج ایران میں تعینات کی جا سکتی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ کبھی بھی کسی امکان کو رد نہیں کرتے اور ان کی انتظامیہ وہ تمام اقدامات کرے گی جو ضروری ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملے ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ کسی بھی ملک کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر مٹایا نہیں جا سکتا اور وہ اسے دوبارہ بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مذاکرات میں پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے : اسحاق ڈار

اگر امریکہ زمینی فوج بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایران رقبے کے لحاظ سے عراق سے تین سے چار گنا بڑا ملک ہے۔

سن دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے وقت بھی امریکہ کے پاس ملک کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے فوجی کافی نہیں تھے، اور آج بھی امریکہ کے پاس اتنی نفری نہیں ہے کہ وہ ایران جیسے بڑے ملک میں قدم رکھ سکے۔

عراق میں صدام حسین کی حکومت تو گر گئی تھی لیکن بعد میں شروع ہونے والی مزاحمت کو روکنے کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی ضرورت پڑی تھی۔

ماہرین کا انتباہ ہے کہ ایران میں کوئی بھی زمینی آپریشن عراق کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، مہنگا اور طویل ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ایرانی عوام بلکہ امریکی فوجیوں کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔