امریکی سینیٹ میں ایران جنگ روکنے کی قرارداد مسترد، ٹرمپ کو کھلی چھوٹ مل گئی

امریکی سینیٹ نے ووٹنگ کے بعد اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے، جو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری کو لازمی قرار دیتی تھی۔
امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف جنگی اختیارات کے حوالے سے ایک اہم رائے شماری ہوئی، جس میں تریپن کے مقابلے میں سینتالیس ووٹوں سے اس قرارداد کو مسترد کر دیا گیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنا چاہتی تھی۔
ریپبلکن اراکین نے متحد ہو کر اس اقدام کو ناکام بنایا، جبکہ صرف ایک ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اس قرارداد کی حمایت کی۔
ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے ہٹ کر حملوں کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اس فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی جاری رکھنے کے لیے مکمل قانونی چھوٹ مل گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر بمباری کی خفیہ کہانی : ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وہ فون کال، جس نے سب بدل دیا
دوسری جانب سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر چاہتے تھے جو انہیں مل گئے، اور اب وہ ایران کے ساتھ جنگ چاہتے تھے، جو ٹرمپ نے انہیں دے دی۔
سینیٹ کے اکثریتی لیڈر چک شومر نے بھی انتظامیہ کی نااہلی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں امریکی شہری پھنسے ہوئے ہیں اور حکومت ان کے انخلا کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔
ایک عوامی سروے کے مطابق ساٹھ فیصد امریکی عوام ایران پر ان حملوں کے خلاف ہیں اور انہیں ایک طویل جنگ کا خدشہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










