ایرانی حملوں سے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فضائی دفاعی نظام تباہ

سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی ساختہ دفاعی نظام کے کلیدی راڈارز کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے خطے میں فضائی دفاعی صلاحیتیں کمزور ہو گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی حملوں نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی ساختہ میزائل ڈیفنس بیٹریوں سے منسلک کلیدی راڈار سسٹمز کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے خطے کا فضائی دفاع کمزور ہوگیا ہے۔
تجزیہ کاروں کی طرف سے دیکھی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اردن میں موفق صلتی ایئر بیس پر امریکی تھاد میزائل ڈیفنس بیٹری کے راڈار سسٹم کو ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے ابتدائی دنوں میں نشانہ بنایا گیا اور ممکنہ طور پر تباہ کر دیا گیا۔
یہ سہولت ایران سے آٹھ سو کلومیٹر سے زیادہ دور واقع ہے اور خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتی ہے۔
دو مارچ کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں راڈار تنصیب کے ارد گرد ملبہ اور جلنے کے نشانات، اور قریب ہی دو بڑے گڑھے دکھائی دے رہے ہیں، جو ایک سے زیادہ حملے کی کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تباہ شدہ راڈار امریکی کمپنی ریتھیون کا تیار کردہ اے این ٹی پی وائی دو ٹرانسپورٹ ایبل راڈار معلوم ہوتا ہے اور اسے تھاد میزائل ڈیفنس بیٹریوں کے لیے بنیادی سراغ رساں نظام سمجھا جاتا ہے۔
راڈار بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا پتہ لگانے اور ٹریک کرنے میں مدد کرتا ہے، جس سے انٹرسیپٹرز کو اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی نشانہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔
امریکی میزائل دفاعی بجٹ کے تخمینوں کے مطابق ایک اے این ٹی پی وائی دو راڈار کی قیمت تقریباً پانچ سو ملین ڈالر ہے، جو اسے تھاد سسٹم کے سب سے قیمتی اجزاء میں سے ایک بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کویت میں امریکہ کا جدید لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سسٹمز کو نقصان پہنچانے سے میزائل دفاعی صلاحیتیں نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہیں، چاہے انٹرسیپٹر لانچرز فعال ہی کیوں نہ رہیں۔
اسلحہ کے ماہر این آر جینزن جونز نے کہا کہ اے این ٹی پی وائی دو راڈار بنیادی طور پر تھاد بیٹری کا دل ہے، اس قسم کے ایک راڈار کا نقصان بھی آپریشنل طور پر ایک اہم واقعہ ہوگا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں تھاد بیٹریاں رکھنے والی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
الرویس اور السدر کے قریب مقامات پر عمارتوں میں اٹھائیس فروری اور یکم مارچ کے درمیان نقصان کے آثار دیکھے گئے، جن میں گاڑیوں کے شیڈ شامل ہیں، جو عام طور پر راڈار کے اجزاء کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راڈار پر حملے جزیرہ نما عرب میں امریکی نگرانی، مواصلات اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے ایران کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
اضافی سیٹلائٹ تصاویر قطر میں ام الدحال بیس پر امریکی ساختہ ارلی وارننگ راڈار سسٹم کو نقصان پہنچنے کا اشارہ دیتی ہیں۔
پینٹاگون نے آپریشنل سیکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے خطے میں مخصوص سسٹمز کی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
متحدہ عرب امارات، جو الظفرہ ایئر بیس پر امریکی افواج کی میزبانی کرتا ہے، خلیج میں سب سے زیادہ نشانہ بننے والی ریاستوں میں شامل رہا ہے۔
اماراتی اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ملک کو ایک ہزار سے زائد ڈرون حملوں اور تقریباً دو سو بیلسٹک میزائلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اگرچہ متحدہ عرب امارات کی طرف میزائل فائرنگ میں حال ہی میں کمی آئی ہے، لیکن ڈرون حملے بدستور بڑھ رہے ہیں، جس سے علاقائی فضائی دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ پڑ رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












