اتوار، 8-مارچ،2026
اتوار 1447/09/19هـ (08-03-2026م)

ایران جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟

08 مارچ, 2026 11:31

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈی میں روس کے لیے بڑا موقع پیدا کر دیا ہے، کیونکہ چین اور بھارت کو اب متبادل تیل کی تلاش ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی عملی بندش سے عالمی توانائی کی منڈی میں سب سے زیادہ فائدہ روس کو پہنچ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔ یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع گیس کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

ایرانی افواج کی جانب سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد زیادہ تر جہاز ران کمپنیوں نے اس راستے سے سفر روک دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور اسٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : تیل تنصیبات اور پانی کے پلانٹ پر حملے، ایران نے سنگین نتائج کی وارننگ دے دی

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال چند ہفتوں سے زیادہ برقرار رہی تو تیل کی قیمت ایک سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

دنیا کے دو بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک چین اور بھارت اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی بڑی مقدار میں تیل کی سپلائی خلیجی ممالک سے ہوتی ہے۔

توانائی کے ماہر اجے پرمار کے مطابق اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے اور آبنائے ہرمز زیادہ عرصے تک بند رہتی ہے تو دنیا کے تمام ممالک کو اضافی تیل کے ہر بیرل کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ روس کو ہوگا، کیونکہ وہ پہلے سے ہی چین اور بھارت کو تیل فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔ امریکا گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ روسی تیل کی خریداری کم کرے، مگر موجودہ صورتحال میں یہ پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے۔

بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا اٹھاسی فیصد حصہ درآمد کرتا ہے اور اس کا تقریباً نصف تیل خلیجی ممالک سے آتا ہے، جو آبنائے ہرمز کے راستے پہنچتا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس تقریباً چوہتر دن کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم بعض رپورٹوں میں یہ مقدار پچیس دن تک بتائی جا رہی ہے۔

گزشتہ مہینوں میں امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریفائنریاں روسی تیل کی خریداری کم کر رہی تھیں اور سعودی عرب سے درآمدات بڑھ گئی تھیں۔ تاہم آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے۔

روس پہلے ہی اضافی تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ انہیں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری میں دوبارہ دلچسپی کے اشارے مل رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم تین بڑے تیل بردار جہاز روسی خام تیل لے کر اس ہفتے بھارت کی بندرگاہوں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک مشرقی ساحل کی بندرگاہ پر پہنچ بھی چکا ہے۔

چین کی صورتحال کچھ مختلف ہے لیکن مجموعی رجحان ایک جیسا ہے۔ چین نے روسی تیل کی خریداری کم کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں اس کے سرکاری اداروں نے خریداری محدود کر دی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو یہ پالیسی بھی بدل سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فروری میں روس سے چین کو تیل کی سپلائی میں روزانہ تقریباً تین لاکھ ستر ہزار بیرل اضافہ ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ برازیل، ارجنٹینا، آسٹریلیا، ملائیشیا اور امریکا بھی تیل کی بڑھتی قیمتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر چین اور بھارت جیسے بڑے خریداروں کو فوری سپلائی فراہم کرنے کی صلاحیت روس کے پاس سب سے زیادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں چین اور بھارت کے لیے توانائی کے تحفظ کا سب سے تیز راستہ ایک بار پھر روسی تیل کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔