اتوار، 8-مارچ،2026
اتوار 1447/09/19هـ (08-03-2026م)

ایران کے بحرین میں امریکی اڈے پر مسلسل حملے، مگر امریکہ خاموش کیوں؟

08 مارچ, 2026 11:31

ایران کی جانب سے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے اڈے کو سلسل نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا اڈہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کی سب سے اہم فوجی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اڈہ صرف ایک فوجی چھاؤنی نہیں بلکہ ایسا مرکزی مقام ہے، جہاں سے خطے میں فوجی سرگرمیوں اور سلامتی کے فیصلوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

یہ اڈہ خلیجی خطے سمیت متعدد ممالک کی سمندری حدود اور فضائی سرگرمیوں کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہاں سے حاصل ہونے والی معلومات اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی اہم ہوتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اڈہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا مرکز ہے، جہاں سے ہونے والے فیصلے خلیجی ممالک کی سیاست اور سلامتی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق اس اڈے کی موجودگی اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کم کردی، وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے، ٹرمپ

ایرانی ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران اس اڈے کو مختلف حملوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جن میں ڈرونز اور دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے۔ بعض حملوں میں ریڈار نظام، ایندھن کے ذخائر اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اس اڈے کو نشانہ بنا کر امریکا کی خطے میں عسکری صلاحیت کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ اگر جنگ میں شدت آئی تو خلیج کے اہم فوجی مراکز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

ماہرین کے مطابق خلیج کے خطے میں جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔