پیر، 9-مارچ،2026
پیر 1447/09/20هـ (09-03-2026م)

نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ایرانی شہروں میں جشن

09 مارچ, 2026 09:59

ایران میں نئی قیادت کے اعلان کے بعد ملک بھر میں جشن کا ماحول دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے رہبر اعلیٰ منتخب ہونے پر عوام، حکومتی شخصیات اور عسکری قیادت کی جانب سے کھلے عام حمایت اور وفاداری کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں، جسے ایران کے سیاسی استحکام اور تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران میں شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے رہبر اعلیٰ منتخب ہونے کے اعلان کے فوراً بعد ملک کے مختلف شہروں میں جشن کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

دارالحکومت تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں شہری قومی پرچم اور مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور نئے رہنما کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

عوامی اجتماعات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر پر گل پاشی کی گئی جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کو ایران کے سیاسی تسلسل اور استحکام کی علامت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے نئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

کئی مقامات پر نوجوانوں اور خاندانوں نے جشن منایا اور اس امید کا اظہار کیا کہ نئی قیادت ملک کو موجودہ داخلی اور خارجی چیلنجز سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

دوسری جانب ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسداران انقلاب نے بھی فوری طور پر نئے رہبر اعلیٰ کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر حکم پر مکمل عمل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک کو متحد اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور نئے رہنما اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے بھی اس فیصلے کو ایران کے لیے اہم موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگان نے نہایت حساس حالات میں ایسا فیصلہ کیا ہے جو ملک کے سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔

علی لاریجانی کے مطابق دشمن قوتیں یہ سمجھ رہی تھیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران قیادت کے بحران میں پھنس جائے گا، تاہم مجلس خبرگان کے بروقت فیصلے نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو مکمل طور پر درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگان کا فیصلہ آئینی اور مذہبی اصولوں کے مطابق ہے اور ایرانی عوام کے لیے نئی قیادت کی پیروی کرنا ایک قومی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ قالیباف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے اتحاد اور استحکام کے لیے نئی قیادت کے ساتھ کھڑے ہوں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔