منگل، 10-مارچ،2026
منگل 1447/09/21هـ (10-03-2026م)

اسرائیلی قیادت میں ایران جنگ کے مستقبل پر تشویش بڑھنے لگی

10 مارچ, 2026 14:57

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے متعدد اعلیٰ حکام نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے مستقبل اور اس کے ممکنہ طویل دورانیے پر تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح تصور موجود نہیں اور یہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے خطے اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

اسرائیل کے اندرونی اندازوں کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جاری فضائی حملوں کی مہم اپنے بنیادی فوجی اہداف کے قریب پہنچ رہی ہے۔

ان اہداف میں ایران کے باقی ماندہ جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا، بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر کو تباہ کرنا، اسلحہ سازی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور ایرانی فوجی و سکیورٹی قیادت کو کمزور کرنا شامل بتایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض اسرائیلی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ کے نتائج مزید سنگین ہونے سے پہلے کسی سیاسی راستے کی تلاش کی جائے۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب خطے کے کئی ممالک ایران کے میزائل حملوں کی زد میں ہیں، جبکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فوجی منصوبہ بندی سے واقف ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی نظام کا خاتمہ لازمی طور پر جنگ کا واحد مقصد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل ایرانی نظام کے خاتمے کا خواہاں ہے تاہم اہم فوجی اہداف کی تباہی کے بعد اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران میں تیل تنصیبات پر ہوئی بمباری سے پاکستان میں فضائی آلودگی کا خطرہ

عہدیدار کے مطابق ایران شاید باضابطہ طور پر ہتھیار نہ ڈالے لیکن وہ امریکی شرائط کے مطابق جنگ بندی کی طرف اشارے دے سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے امکانات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں سابق ایرانی سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر کا منصب سنبھال رہے ہیں، جنہیں پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے بعض فوجی منصوبہ سازوں کو خدشہ ہے کہ اگر حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کی گئی تو جنگ لبنان سمیت دیگر محاذوں تک پھیل سکتی ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان میں سرحد کے قریب حزب اللہ کی رضوان فورس کے باقیات کے خلاف محدود کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل بڑے پیمانے پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا تاکہ انیس سو بیاسی میں لبنان پر حملے جیسے تجربے سے بچا جا سکے، جس کے دوران اسرائیلی افواج بیروت تک پہنچ گئی تھیں اور جسے بعد میں کئی اسرائیلی حلقوں نے تزویراتی غلطی قرار دیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق اسرائیل لبنانی قیادت بشمول صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام کے ساتھ رابطوں کے لیے تیار ہے تاکہ لبنانی محاذ پر جنگ بندی کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔