فرانس کا بحیرہ روم اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز تعینات کرنے کا اعلان

فرانس نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایک درجن کے قریب جنگی بحری جہاز تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
فرانس نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خطے میں اپنے بحری بیڑے کو تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایک درجن کے قریب جنگی جہاز مختلف سمندری علاقوں میں بھیجے جائیں گے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق اس بحری بیڑے میں فرانس کا طیارہ بردار جہاز چارلس ڈی گول اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہازوں کا گروپ بھی شامل ہوگا۔
یہ جہاز بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز پر کشیدگی؛ روسی تیل پاکستان کو سپلائی کیا جائے گا، روسی میڈیا
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے قبرص کے دورے کے دوران اپنے ہم منصب نیکوس کرسٹودولائیڈس سے ملاقات کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ قبرص کی سلامتی یورپ کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے اور اگر قبرص پر حملہ ہوتا ہے تو اسے پورے یورپ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
صدر میکرون نے کہا کہ فرانس کا مقصد خطے میں دفاعی پوزیشن برقرار رکھنا اور ان ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جو ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانس علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ سمندری راستوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے۔
فرانسیسی صدر کے مطابق عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے سمندری راستوں کی سلامتی انتہائی اہم ہے اور فرانس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کہ تیل اور دیگر اہم سامان کی نقل و حمل متاثر نہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک دیگر یورپی ممالک نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں زیادہ فعال کردار ادا نہیں کیا تاہم فرانس اس معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












