ایران جنگ سے روس کو سیاسی اور معاشی فائدے کی امید، سفارتی کوششیں تیز

تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو ایران جنگ سے نہ صرف سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے بلکہ معاشی فوائد حاصل کرنے کے مواقع بھی تلاش کر رہا ہے۔
بی بی سی روس کے ایڈیٹر کے تجزیئے کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری کارروائیوں کے دوران روس نے خود کو ایک بین الاقوامی ثالث کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ایران کے صدر کے درمیان دو مرتبہ ٹیلیفون پر گفتگو ہو چکی ہے۔
ماسکو کی جانب سے اس تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کی بات کی جا رہی ہے اور روسی قیادت خود کو عالمی امن کے لیے کردار ادا کرنے والا ملک ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم ناقدین کے مطابق یہ مؤقف اس لیے متنازع ہے کیونکہ روس خود 2022 سے یوکرین کے خلاف جنگ میں مصروف ہے جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
اگرچہ کریملن ایران تنازع کے فوری خاتمے اور سیاسی حل کی بات کر رہا ہے، لیکن اسی دوران روس یوکرین کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
روس اور ایران کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے اور اسی ہفتے روسی صدر نے تہران کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔ تاہم یہ شراکت داری باہمی دفاعی معاہدے کی شکل اختیار نہیں کرتی۔ اس کے باوجود ماسکو نے اس تنازع میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
کریملن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں روسی صدر نے ایران تنازع کے جلد سفارتی حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
روسی حکام کے مطابق یہ تجاویز خلیجی ممالک کے رہنماؤں، ایران کے صدر اور دیگر عالمی شخصیات کے ساتھ ہونے والے رابطوں کی بنیاد پر دی گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے ذریعے روس کو مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماسکو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
کریملن کی خواہش ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے والے تعلقات برقرار رہیں کیونکہ روس سمجھتا ہے کہ یہ تعلقات یوکرین کی جنگ میں اس کے مفادات کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روسی صدر نے ایران جنگ کے حوالے سے امریکی صدر پر کھل کر تنقید کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدر نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر مددگار ثابت ہونا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر روس یوکرین کی جنگ ختم کر دے تو یہ زیادہ مددگار ثابت ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں : روس ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا رپورٹس
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران تنازع نے روس کے لیے معاشی مواقع بھی پیدا کئے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے روسی حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس سے یوکرین کی جنگ کے اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
روس کا وفاقی بجٹ اس بنیاد پر تیار کیا گیا تھا کہ ملک تقریباً انسٹھ ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل برآمد کرے گا۔ حالیہ مہینوں میں تیل کی قیمتیں اس سطح سے نیچے چلی گئی تھیں لیکن ایران جنگ کے بعد خام تیل کی قیمتیں اچانک تقریباً ایک سو بیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ اگرچہ بعد میں قیمتوں میں کچھ کمی آئی، لیکن اب بھی یہ سطح روسی بجٹ کے اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ عالمی قلت کو کم کرنے کے لیے بعض ممالک پر عائد تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ اگر روس پر بھی ایسی پابندیوں میں کمی کی گئی تو ماسکو کو مزید مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس امکان کو اپنے ملک کے لیے سنگین دھچکہ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر سے اس اقدام سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب روسی اخبارات میں اس صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ اخبارات نے مہنگے تیل کو مغربی پابندیوں کے خاتمے کا ممکنہ سبب قرار دیا ہے جبکہ بعض اخبارات نے ایران جنگ اور امریکی پالیسیوں پر سخت تنقید بھی کی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










