جمعہ، 13-مارچ،2026
جمعہ 1447/09/24هـ (13-03-2026م)

فتنہ الخوارج کی افغانستان میں موجودگی پر عالمی تشویش، اقوام متحدہ نے حقائق سامنے رکھ دیئے

12 مارچ, 2026 09:43

اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان کی انتہا پسندانہ پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔

اقوام متحدہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان انتظامیہ کو دہشت گردوں کی سرپرست قرار دے دیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یوناما کی نائب نمائندہ جورجٹ گگنون نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پنپتی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی ابتر صورتحال عالمی برادری کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطے کے تمام ممالک کو افغانستان سے سرگرم فتنہ الخوارج سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

جورجٹ گگنون کا کہنا تھا کہ طالبان کی سفارتی تنہائی منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سبب بن رہی ہے، جو عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اہداف حاصل ہونے تک ایران میں کارروائی جاری رہے گی، وائٹ ہاؤس

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کے نظریاتی اور صنفی امتیاز پر مبنی قوانین نے افغان عوام، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ خواتین کو ان کی بنیادی آزادیوں اور حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ نام نہاد فوجداری قوانین کے ذریعے عوام سے یکساں مواقع چھین لیے گئے ہیں۔

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ افغان طالبان کی انتہا پسند سوچ اور ناکام پالیسیوں نے افغانستان کو ایک ناکام ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ افغان معیشت کا سارا دارومدار وار ایکونومی یعنی جنگی معیشت اور نارکو ٹیررازم یعنی منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والی دہشت گردی کی رقم پر ہے، جو پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک بم کی مانند ہے۔

عالمی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں ورنہ افغانستان کی عالمی تنہائی مزید گہری ہو جائے گی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔