لبنان سے اسرائیل پر حزب اللہ کے نئے تابڑ توڑ حملے، اسرائیلی فوجی تنصیبات نشانہ

تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی تنصیبات اور بستیوں کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے، جن میں کئی اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں کئی نئی کارروائیاں انجام دی ہیں۔ ان حملوں کے دوران اسرائیلی فوجی تنصیبات، فوجی اجتماعات اور اہم نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا کہ جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے یعرا بیرکس کو متعدد حملہ آور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ یہ فوجی مرکز مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں اسرائیلی فوج کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
تنظیم کے مطابق اسرائیل کے شمالی ساحلی شہر نہاریہ کی بستی کو بھی متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ رات بارہ بج کر دس منٹ پر ڈرونز کے ایک گروہ نے اس بستی پر حملہ کیا، جبکہ تقریباً پینتالیس منٹ بعد اسی مقام پر دوبارہ راکٹوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، ایران پر حملے ناقابل قبول قرار
حزب اللہ کے مطابق صبح کے وقت اسرائیل کے میرون فضائی اڈے کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ اڈہ شمالی مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فضائی سرگرمیوں کی نگرانی اور انتظام کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حملے کے نتیجے میں وہاں نصب ایک ریڈار نظام کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق بیت لید فوجی اڈے پر بھی درست نشانہ بنانے والے میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جہاں اسرائیلی فوج کی نہال بریگیڈ اور پیرا ٹروپر بریگیڈ کے تربیتی مراکز موجود ہیں۔
اسی طرح تل ابیب کے قریب واقع گلیلوٹ فوجی اڈے کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ مقام اسرائیلی فوج کی خفیہ معلومات کے اہم یونٹ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا کہ سرحدی علاقوں میں بھی اسرائیلی فوج کے اجتماعات کو توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ مزاحمتی جنگجو لبنان کے سرحدی قصبوں کا دفاع بھی کر رہے ہیں تاکہ اسرائیلی افواج کو لبنانی سرزمین میں پیش قدمی سے روکا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












