مودی کی ایک اور سفارتی ناکامی، روس نے بھارت کیلئے سستے تیل کی سہولت ختم کر دی

روس نے بھارت کو فراہم کی جانے والی سستے تیل کی خصوصی رعایت ختم کر دی ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی سیاست میں نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یوکرین جنگ کے بعد عالمی توانائی منڈی میں روسی تیل کی فروخت ایک اہم مسئلہ بن چکی تھی۔ مغربی ممالک نے روسی تیل کی قیمت پر ساٹھ ڈالر فی بیرل کی حد مقرر کی تھی تاکہ روس کو محدود مالی فائدہ حاصل ہو۔
اس صورتحال میں بھارت ان ممالک میں شامل تھا، جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خرید رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کو روسی تیل عالمی حد سے بھی تقریباً بیس ڈالر کم قیمت پر فراہم کیا جا رہا تھا۔
تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی اور توانائی منڈی میں تبدیلیوں کے بعد روس نے بھارت کے لیے فراہم کی جانے والی رعایتی قیمت کی سہولت ختم کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب روسی تیل کی قیمت تقریباً ستر ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سلامتی کونسل میں روس کا سخت مؤقف، ایران کے خلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق روس اب اس قیمت پر مزید چھ سے آٹھ ڈالر اضافی پریمیم بھی وصول کر رہا ہے۔ اس فیصلے سے بھارت کو توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدوں میں روس سے تیل خریداری بند کرنے کی شرط بھی شامل تھی، جس کے باعث توانائی کی عالمی سیاست مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
علاقائی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










