جنگی حکمت عملی پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات نمایاں ہونے لگے

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے درمیان حکمت عملی کے اختلافات نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے آثار حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار انیق ناجی کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی نئی علامات سامنے آ رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کو دس مارچ کو اسرائیل کا دورہ کرنا تھا، جہاں انہیں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنی تھی۔
یہ دونوں شخصیات امریکی قیادت کے قریبی ساتھی سمجھی جاتی ہیں اور ماضی میں بھی خطے کے اہم سفارتی معاملات میں کردار ادا کر چکی ہیں۔
جیرڈ کشنر وہ شخصیت ہیں، جنہوں نے عرب اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدوں کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان سمیت چار مسلم ممالک کی امریکہ – ایران کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں تیز
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان دونوں شخصیات نے صدر کے حکم پر اچانک اپنا دورہ منسوخ کر دیا اور تل ابیب نہیں پہنچے۔ سرکاری سطح پر اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی اور نہ ہی نئی ملاقات کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکا اسرائیل کی جانب سے ایران کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر کئے گئے حملوں پر ناراض ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں حیفہ کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
امریکا کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل مراکز کو نشانہ بنانا تھا، جبکہ اسرائیل ایران کی مکمل عسکری کمزوری اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق جنگی اخراجات بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں اور روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کے اخراجات کا بوجھ امریکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ خطے کے کئی ممالک اب ان اڈوں کی موجودگی پر نظرثانی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









