ایران جنگ پر 19 ارب ڈالر خرچ، ٹرمپ کی پالیسی پر امریکی کانگریس رکن کی سخت تنقید

امریکی صدر نے 2026 کیلئے تارکین وطن کو ویزہ دینے کی حد مقرر کردی
واشنگٹن: امریکا کے رکن کانگریس جم میک گورن نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دو ہفتوں میں اس جنگ پر اربوں ڈالر ضائع کر دیے گئے۔
جم میک گورن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران کے خلاف جنگ پر تقریباً 19 ارب ڈالر خرچ کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم امریکا میں متعدی بیماریوں کی روک تھام پر سالانہ خرچ ہونے والی رقم سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق یہ پیسہ عوام کی صحت اور فلاح پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔
کانگریس رکن نے مزید کہا کہ اس جنگ سے صرف بڑے تیل کے کاروباری افراد اور دفاعی ٹھیکیدار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اپنے ارب پتی حامیوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جبکہ امریکی عوام کی صحت اور فلاح کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے کانگریس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی امریکا نے کم از کم 11 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس کے بعد سے روزانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم اس جنگی مہم پر خرچ کی جا رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










