اتوار، 15-مارچ،2026
اتوار 1447/09/26هـ (15-03-2026م)

امریکی اڈوں پر حملے، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی درست کارروائیوں پر عسکری ماہرین حیران

15 مارچ, 2026 12:23

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایران کے ردعمل نے عالمی مبصرین اور عسکری ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد جس پیمانے اور حکمت عملی کے ساتھ کارروائیاں کیں وہ توقعات سے کہیں زیادہ وسیع اور منظم تھیں۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، خلیجی سمندری راستوں اور یہاں تک کہ آبنائے ہرمز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ تیزی سے بڑھا دی، جس کے نتیجے میں خلیج کے علاقے میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے حملوں کے لیے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا استعمال کیا۔ ان میں خلیجی ممالک میں موجود انسانی معلوماتی نیٹ ورک، سیٹلائٹ تصاویر اور بعض اطلاعات کے مطابق روس اور چین سے حاصل ہونے والی تکنیکی معاونت شامل تھی۔

ان معلومات کی بنیاد پر ایران نے امریکی فوجی اڈوں، توانائی کی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ڈیٹا مراکز اور بعض شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

امریکی خصوصی افواج کے مشرق وسطیٰ کے سابق سربراہ کے عملے کے رکن سیٹھ کرمریچ نے کہا کہ ایران نے محدود وسائل کے باوجود جس طرح کی کارروائیاں کی ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کا اسرائیل کے صنعتی علاقوں پر حملہ، عراق اور کویت کے امریکی اڈے بھی نشانہ

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی انٹیلی جنس کو نہ صرف امریکی فوجی اڈوں کے مقامات کے بارے میں معلومات ہیں بلکہ انہیں امریکی فوج کے روزمرہ کے معمولات اور آپریشنل طریقہ کار کے بارے میں بھی خاصی آگاہی حاصل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے قریب جغرافیائی محل وقوع ایران کو ایک اہم عسکری برتری فراہم کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایران کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور شاہد نامی بغیر پائلٹ طیارے چند ہی منٹوں میں اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے دفاعی نظام کو ردعمل کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔

مغربی اور خلیجی دفاعی نظام جن میں پیٹریاٹ اور تھاڈ شامل ہیں، بڑی تعداد میں آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور ایرانی لانچنگ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود ہزاروں میزائل اور ڈرون فائر کیے جا چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم قیمت مگر متحرک شاہد ڈرونز جنگ میں لاگت کے توازن کو بدل دیتے ہیں کیونکہ انہیں تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائل کئی گنا مہنگے ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے ابھی تک اپنے جدید ترین میزائل اور ڈرون نظام مکمل طور پر استعمال نہیں کئے، جبکہ بعض امریکی سیاسی رہنماؤں خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کی شدت اور اس کے ممکنہ اخراجات کو کم اندازہ لگایا تھا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔