افغانستان سب کا نہیں تو کسی کا بھی نہیں ہوگا، افغان رہنماؤں کا طالبان رجیم کو آخری انتباہ

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور جابرانہ پالیسیوں کے خلاف ملک کی سیاسی قیادت نے متحد ہو کر آواز بلند کرنا شروع کر دی ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اس وقت سنگین داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں ایک طرف عالمی برادری ان سے نالاں ہے تو دوسری طرف ملک کی مقتدر سیاسی قیادت نے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سابق افغان نائب صدر سرور دانش نے طالبان حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ رجیم نہ صرف ملک میں امن و امان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، بلکہ دہشت گرد گروہوں کی مسلسل پشت پناہی کر کے اس نے افغانستان پر بیرونی جارحیت کی راہ ہموار کر دی ہے۔
سرور دانش کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کے وسائل اور حکمرانی میں تمام طبقات کو شامل نہ کیا گیا اور یہ ملک سب کے لیے نہ ہوا تو پھر یہ کسی کے لیے بھی نہیں رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنا یا انہیں تسلیم کرنا قانونی طور پر غلط ہے، کیونکہ ان کا اقتدار عوامی خواہشات کے بجائے جبر پر مبنی ہے اور موجودہ حالات میں ان کے پاس حکومت کرنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز باقی نہیں رہا۔
دوسری جانب نیشنل اسلامک موومنٹ کے سربراہ اور تجربہ کار افغان رہنما عبدالرشید دوستم نے بھی طالبان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے متعلق بھارت کے الزامات مضحکہ خیز اور منافقانہ ہیں، دفتر خارجہ
ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی شدت پسند اور ظلم پر مبنی حکمرانی نہ صرف ناکام ہو چکی ہے بلکہ اس نے افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
عبدالرشید دوستم کے مطابق طالبان کے مظالم کے خلاف عوامی مزاحمت اب ایک ایسی لہر بن چکی ہے، جسے کسی بھی قیمت پر روکنا ممکن نہیں رہا۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کا اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی نے ملک کے اندر سیاسی خلا پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مسلح اور سیاسی مزاحمت میں تیزی آئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا رویہ نہ بدلا تو بڑھتی ہوئی داخلی مزاحمت افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین اور خطرناک اشارہ ثابت ہو سکتی ہے جو ملک کو دوبارہ عدم استحکام کا شکار کر دے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








