ایران معاہدہ کرنے کیلئے بے چین ہے، مگر فی الحال تیار نہیں، ٹرمپ

امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران دراصل مذاکرات چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم تہران ابھی مکمل طور پر معاہدے کے لیے تیار نہیں۔
صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے اور بات چیت جاری ہے، تاہم ایران ابھی مکمل طور پر اس مرحلے تک نہیں پہنچا، جہاں وہ مطلوبہ شرائط قبول کر سکے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران جلد ہی مذاکرات کے لیے تیار ہو جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اگرچہ امریکہ نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن وہ فی الحال جنگ میں فتح کا اعلان کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس وقت کارروائی روک دے تو بھی ایران کو اپنی فوجی اور صنعتی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں، مغربی اتحادیوں کو سخت پیغام، چین سے بھی مدد کی اپیل
امریکی صدر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران مصنوعی ذہانت کی مدد سے غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔ بعض تصاویر اور ویڈیوز جن میں بڑے اجتماعات یا امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے دعوے کئے گئے تھے، دراصل مصنوعی طور پر تیار کی گئی تھیں۔ تاہم انہوں نے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
صحافیوں نے جب ان سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے درمیان بہترین تعلقات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور ان کے تعلقات غیر معمولی نوعیت کے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر عالمی توانائی منڈی کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی اور موجودہ بحران زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہے گا۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے نہ کبھی جنگ بندی کی درخواست کی ہے اور نہ ہی مذاکرات کی کوئی اپیل کی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











