ایران جنگ کے دو ہفتے مکمل، ٹرمپ کو مشکل فیصلوں کا سامنا، ایک غلط قدم اور طویل بحران!

ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے دو ہفتے گزرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے فیصلوں کا سامنا ہے، جو نہ صرف اس جنگ کے انجام بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے سخت فیصلوں کا سامنا ہے جن کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی انتظامیہ کو اندازہ ہوا ہے کہ اس تنازع میں شامل ہونے کے نتائج اس کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
جنگ کے دوران بڑھتی ہلاکتوں، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں عدم استحکام نے واشنگٹن کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا وہ فوجی کارروائی کو مزید وسعت دے یا کشیدگی کم کرنے کا راستہ اختیار کرے۔
اب تک جنگ کے دوران امریکی فوج کے تیرہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے اندر تیرہ سو سے زیادہ شہری شہید ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے اندر بھی اس جنگ پر سیاسی بحث تیز ہو رہی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کے بہت سے حامی پہلے ہی بیرون ملک نئی جنگوں سے گریز کے وعدے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
اگر امریکی صدر جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے امریکی فوجیوں کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور مالی اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب اگر امریکہ اس تنازع سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے کئی اہم مقاصد ادھورے رہ سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق سب سے بڑا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی جوہری تنصیبات اور افزودہ یورینیم کے ذخائر اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تیل کی قیمتوں سے اہم شر پسند ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، ٹرمپ
اگرچہ صدر ٹرمپ نے کئی بار اشارہ دیا ہے کہ جنگ جلد اختتام کی طرف بڑھ سکتی ہے، تاہم میدان جنگ میں صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں مزید فوجی وسائل بھی بھیجے جا رہے ہیں، جس سے طویل جنگ کی تیاری کا تاثر ملتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کی روایتی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ایران کی حکومتی ساخت بدستور قائم ہے اور وہ جنگی کارروائیوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں میں اضافہ کرے گی، جن میں سائبر حملے، میزائل حملے اور سمندری تجارت میں خلل ڈالنے کی کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
اس دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کے بعد بحری ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چند ممالک کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کرے گا۔ تاہم کئی ممالک نے جنگی ماحول کے باعث اس منصوبے میں شرکت کے حوالے سے ابھی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔
اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکی حکام نے اسرائیل کو تہران کے قریب بڑے تیل ذخیرہ گاہوں پر حملے سے خبردار کیا تھا کیونکہ اس سے پورے خطے میں توانائی کے ڈھانچے پر جوابی حملوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود ایسے حملے کیے گئے جن سے بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
امریکی انتظامیہ کے سامنے اب دو اہم فوجی آپشن زیر غور ہیں۔ ایک منصوبہ ایران کے سب سے بڑے تیل برآمدی مرکز خارک جزیرے پر قبضہ کرنے کا ہے جبکہ دوسرا منصوبہ اصفہان میں زیر زمین محفوظ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو قبضے میں لینے کا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق دونوں آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہے جنگ کسی بھی مرحلے پر ختم ہو، اس کے اثرات مغربی ایشیاء کی سیاست اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر کئی سال تک محسوس کیے جائیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









