منگل، 17-مارچ،2026
منگل 1447/09/28هـ (17-03-2026م)

خلیج میں امریکی سکیورٹی نظام خود خطرہ کیسے بن گیا؟

17 مارچ, 2026 11:06

ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیاء میں ہر نئی کشیدگی دراصل طاقت کے ایک پرانے نظام کو بے نقاب کرتی ہے، جس میں فوجی اڈے، توانائی کے راستے اور عالمی طاقتوں کی رقابتیں ایک پیچیدہ جغرافیائی منظرنامہ تشکیل دیتی ہیں۔

مغربی ایشیاء میں جب بھی کشیدگی بڑھتی ہے تو اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ خطے میں طاقت کا کوئی نیا توازن پیدا ہو رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ پرانا نظام ہی زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ ایران جنگ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لا دیا ہے کہ خطے کی فوجی تنصیبات، اتحاد اور لاجسٹک نیٹ ورک کس طرح جوابی حملوں کے نقشے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

کئی دہائیوں تک خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی کی حکمت عملی امریکی فوجی موجودگی کے گرد قائم رکھی۔ اس میں فوجی اڈوں کے معاہدے، مشترکہ فضائی دفاعی نظام، تربیتی پروگرام اور اسلحہ کی بڑی خریداری شامل تھی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر کا ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے پر حیرت کا اظہار

سرکاری بیانات میں اس نظام کو تحفظ کا ذریعہ قرار دیا جاتا تھا، لیکن بعض ماہرین کے مطابق یہ دراصل ایک ایسے نظام کا حصہ تھا، جو خطے کو عالمی طاقت کے اثر و رسوخ کے دائرے میں رکھتا ہے۔

اس نظام کے تحت خطرات کی تعریف بھی اکثر اسی زاویے سے کی جاتی ہے۔ ایران کی مثال دی جاتی ہے، جس نے ایک انقلابی تحریک کے ذریعے امریکا کی حمایت یافتہ بادشاہت کا خاتمہ کیا اور اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔

اگرچہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ یکساں نہیں رہے اور کبھی کشیدگی تو کبھی تعاون بھی دیکھنے میں آیا، لیکن امریکی سکیورٹی نظام نے اس تعلق کو زیادہ تر ایک مستقل خطرے کے طور پر پیش کیا۔

ماہرین کے مطابق اس سکیورٹی ڈھانچے کا مقصد صرف دفاع نہیں بلکہ خطے کو ایک ایسے عالمی نظام میں شامل رکھنا بھی تھا، جس میں جنگ، تیل اور اسٹریٹجک انحصار کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ برقرار رہتا ہے۔

اسی وجہ سے موجودہ جنگ میں بھی واضح سیاسی حل نظر نہیں آ رہا اور کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا کوئی واضح اختتامی منظرنامہ سامنے نہیں آیا۔

یہی وجہ ہے کہ مغربی ایشیاء کو اکثر ایسا خطہ قرار دیا جاتا ہے، جہاں عالمی طاقتوں کی رقابتیں، توانائی کے راستے اور فوجی ڈھانچے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

موجودہ کشیدگی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات صرف دفاعی ڈھانچے نہیں بلکہ طاقت کے ایسے مراکز ہیں، جو جنگ کی صورت میں براہ راست نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں موجود یہ سکیورٹی نظام دراصل ایسا ڈھانچہ ہے، جس میں اتحادی ممالک کو تحفظ تو دیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ انہیں جنگی خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔