امریکی صدر کا ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے پر حیرت کا اظہار

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انہیں حیرت ہوئی کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے پر حیرت ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس امکان کے بارے میں پہلے سے کوئی بریفنگ نہیں دی گئی تھی کہ ایران خطے کے دیگر ممالک پر حملے کر سکتا ہے۔
تاہم کئی مبصرین اس دعوے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ برسوں سے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ماضی میں بھی ایران کی جانب سے ایسے حملوں کی مثالیں موجود ہیں۔ گزشتہ سال مڈ نائٹ ہیمر نامی آپریشن کے بعد قطر میں العدید فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ سنہ دو ہزار بیس میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق میں عین الاسد فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک پر حملوں کا مقصد ان حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے تاکہ وہ امریکا کو جنگ ختم کرنے کے لیے قائل کریں۔
یہ بھی پڑھیں : اگر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں تو سرنڈر کر دیں، ایران کی ڈیل کی شرائط ہمیں پسند نہیں، ٹرمپ
تاہم عملی طور پر اس کے برعکس نتائج سامنے آئے ہیں اور بعض مقامات پر مقامی حکام اور عوامی رائے ایران کے خلاف ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران تقریباً ایک ہزار میل کے دائرے میں آنے والے ہر ملک کی طرف میزائل داغ رہا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں میزائل ایسے ممالک کی طرف بھی داغے گئے، جو اس جنگ میں شامل ہونے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی موجودہ قیادت کے بارے میں واضح معلومات نہیں ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کس سے بات کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کی قیادت کے بیشتر افراد ختم ہو چکے ہیں اور اب یہ بھی واضح نہیں کہ مذاکرات کس کے ساتھ کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی یہ معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









