بدھ، 18-مارچ،2026
بدھ 1447/09/29هـ (18-03-2026م)

طالبان کیخلاف بغاوت: افغان نوجوانوں نے نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے پرچم تلے اتحاد کر لیا

18 مارچ, 2026 12:35

افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے طالبان حکومت کی انتہاء پسندی اور جارحیت کے خلاف نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا قیام طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں، دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی اور رجعت پسندانہ اقدامات کے خلاف ایک براہ راست ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فرنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی عوام اب طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ اپنے بچاؤ کا کوئی دوسرا راستہ نہیں دیکھتی، کیونکہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ شدید سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی مسائل کی چکی میں پس رہا ہے۔

این ایم ایف نے اپنے بیانیے میں اس جدوجہد کو تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ماضی میں سابق سوویت یونین کے خلاف جہاد فرض تھا، تو آج کے دور میں طالبان رجیم کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا اور عملی جدوجہد کرنا اس سے بھی زیادہ بڑا فرض بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان سب کا نہیں تو کسی کا بھی نہیں ہوگا، افغان رہنماؤں کا طالبان رجیم کو آخری انتباہ

ترجمان کے مطابق افغان طالبان عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں، جنہوں نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کر رکھا ہے، لیکن اب افغان سرزمین کے بیٹے اور بیٹیاں اس دہشت گرد گروہ کے چنگل سے اپنے ملک کو آزاد کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار اور سینہ سپر ہیں۔

تنظیم کے اعلامیے میں اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے کہ موجودہ طالبان حکمران کسی قسم کے سیاسی مکالمے یا مفاہمت کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی وہ جدید دور کے تقاضوں کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

فرنٹ نے طالبان کو تاریکی اور جہالت کا ایک گروہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت کا راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔

دوسری جانب سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا یہ سخت ردِعمل دراصل طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی پشت پناہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بین الاقوامی اور مقامی سطح پر پردہ چاک کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کی جانب سے خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور تعلیم سمیت بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ اب ایک مضبوط عوامی بیانیہ بن کر ابھر رہا ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان کے اندر طالبان کی گرفت کو چیلنج کرنے کے لیے ایک ایسی قوت منظم ہو رہی ہے جو نہ صرف عسکری بلکہ فکری اور سماجی محاذ پر بھی ان کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

این ایم ایف کا قیام آنے والے دنوں میں افغانستان کی داخلی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔