ایران کے طاقتور ترین رہنما علی لاریجانی کون تھے؟

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی طاقتور ترین شخصیت کے طور پر ابھرنے والے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔
علی لاریجانی، جو ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے، منگل کی رات اسرائیل کی جانب سے کئے گئے ایک فضائی حملے میں شہید ہوئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاریجانی کو ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران ایک رات گئے کی جانے والی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران ایرانی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ملک کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی بھی ایک علیحدہ حملے میں شہید ہو چکے ہیں۔
علی لاریجانی کو 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اب تک کا سب سے اعلیٰ سطح کا ایرانی عہدیدار قرار دیا جا رہا ہے، جسے اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔
علی لاریجانی 3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں ایک بااثر ایرانی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا ہاشم آملی ایک جید مذہبی عالم تھے، جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کی عدلیہ اور ماہرین کی کونسل جیسے اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
لاریجانی کے خاندان کی طاقت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے انہیں اکثر ایران کا کینیڈی خاندان کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم صرف مذہبی مدارس تک محدود نہیں رکھی بلکہ جدید علوم میں بھی کمال حاصل کیا۔
انہوں نے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں ڈگری لی اور بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔
یہ بھی پڑھیں : علی لاریجانی اپنے بیٹے، نائب اور محافظ سمیت شہید
ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا موضوع اٹھارہویں صدی کے جرمن فلسفی امانوئل کانٹ کی تعلیمات تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ایک فلسفی اور ریاضی دان سیاستدان کے طور پر جانا جاتا تھا۔
لاریجانی کا سیاسی سفر 1979 کے انقلاب کے بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں شمولیت سے شروع ہوا۔ وہ سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دور میں وزیر ثقافت رہے اور دس سال تک ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
2008 سے 2020 تک وہ مسلسل تین بار ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر رہے، جہاں انہوں نے ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 2005 میں ایران کے چیف ایٹمی مذاکرات کار بھی مقرر ہوئے، تاہم اس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ پالیسی اختلافات کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بعد ازاں 2015 کے عالمی جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کردار نہایت اہم رہا۔
اگرچہ لاریجانی کو ایک عملیت پسند اور حقیقت پسند سیاستدان سمجھا جاتا تھا، جو مغرب کے ساتھ مذاکرات کا حامی تھا، لیکن فروری 2026 میں شروع ہونے والی جنگ نے ان کے لہجے کو مکمل طور پر بدل دیا۔
سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور کی شہادت کے محض 24 گھنٹے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہو کر انہوں نے انتہائی سخت پیغام دیا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو متنبہ کیا کہ انہوں نے ایرانی قوم کے دلوں کو آگ لگائی ہے اور اب ایران ان کے دلوں کو جلائے گا اور صیہونی مجرموں کو ایسا سبق سکھائے گا، جسے دنیا یاد رکھے گی۔
انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران خطے کے ممالک پر حملہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن وہ ان تمام اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جو امریکہ ایران کے خلاف استعمال کرے گا۔
اپنی شہادت سے چند روز قبل تک لاریجانی تہران کی سڑکوں پر صدر مسعود پزیشکیان کے ساتھ عوامی مظاہروں میں شریک نظر آئے۔
انہوں نے مسلم ممالک کی خاموشی پر بھی کڑی تنقید کی اور سوشل میڈیا پر اپنے آخری پیغامات میں کہا کہ جو مسلمان کی پکار پر لبیک نہیں کہتا وہ مسلمان کہلانے کا حقدار نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ان کی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا اور ان پر عالمی دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگایا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












