جمعہ، 20-مارچ،2026
جمعہ 1447/10/01هـ (20-03-2026م)

صبر کی حد ہوتی ہے، ایرانی حملے مزید برداشت نہیں، جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں، سعودی عرب

19 مارچ, 2026 12:49

سعودی عرب نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، اسے فوری طور پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے ایک اہم پریس کانفرنس میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کی برداشت محدود ہے اور تہران کو فوری طور پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے پاس ایسی بڑی صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ حالیہ حملوں کی نوعیت اور نشانے کی درستگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں اچانک نہیں بلکہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی گزشتہ کئی برسوں سے تیار کی جا رہی تھی اور اس کا مقصد خطے کے ممالک کو نشانہ بنا کر عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ واضح نہیں کریں گے کہ کس مرحلے پر سعودی عرب دفاعی کارروائی کرے گا، تاہم ایران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب اور یو اے ای کا رابطہ، خلیجی اتحاد برقرار رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران اس پیغام کو سمجھے گا اور فوری طور پر اپنے حملے بند کرے گا، تاہم انہیں اس بات پر شبہ ہے کہ ایران ایسا کرے گا۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ جنگ ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں طویل وقت لگے گا کیونکہ اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے فوری طور پر حملے بند نہ کئے تو اعتماد کی بحالی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران کے اقدامات سیاسی اور اخلاقی طور پر اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے اور خطے کے ممالک کو دباؤ میں لانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے ریاض اور قطر کی راس لفان تنصیبات کو اس وقت نشانہ بنایا، جب ریاض میں اہم سفارتی اجلاس جاری تھا، جس کا مقصد عرب اور اسلامی ممالک کو دباؤ میں لانا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جس میں ضرورت پڑنے پر عسکری کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔