ایران کا اسرائیل میں حیفہ میں آئل ریفائنری پر حملہ، پہلی بار ملٹی وار ہیڈ نصراللہ میزائل کا استعمال

ایران کا اسرائیل میں حیفہ میں آئل ریفائنری پر حملہ، پہلی بار ملٹی وار ہیڈ نصراللہ میزائل کا استعمال
ایران نے اسرائیل کے اہم شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں پہلی بار جدید ملٹی وارہیڈ “نصراللہ میزائل” استعمال کیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے آپریشن کے تسلسل میں کیے گئے، جن میں اسرائیل کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حیفہ کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حیفہ اور اشدود کی آئل ریفائنریز کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ حملوں میں خیبر شکن، عماد اور حاج قاسم میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں تل ابیب سمیت اسرائیل کے وسطی اور جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ملٹی وارہیڈ میزائل ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے دشمن کے دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
ان حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کے شہر ینبع کے قریب ایک ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ابوظہبی میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے گیس تنصیبات متاثر ہوئیں اور کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔
اسی طرح قطر کے راس لفان گیس فیلڈ میں حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، جبکہ کویت میں دو آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملوں کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔
حملوں کی وجہ
یہ کارروائیاں مبینہ طور پر ایران کے پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور دشمن کی جارحیت کا جواب ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان حملوں کے بعد نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











