افغان طالبان نے امریکی قیدی ٹرمپ کے خوف سے رہا کیا، افغان رہنماء

جمعیت اسلامی کے رہنما نے امریکی قیدی کی رہائی کو طالبان کا امریکی صدر کا خوف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں بے گناہ افغان اب بھی لسانی اور نسلی بنیادوں پر قید خانوں میں بدترین سلوک کا نشانہ بن رہے ہیں۔
افغانستان کی سیاسی جماعت جمعیت اسلامی کے اہم رہنما عطا محمد نور نے طالبان انتظامیہ کی جانب سے امریکی شہری ڈینئیل کوائل کی رہائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عطا محمد نور کا کہنا ہے کہ طالبان نے امریکی قیدی کو کسی ہمدردی یا قانونی عمل کے تحت نہیں بلکہ صرف اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خوف اور ان کی دھمکیوں کے باعث رہا کیا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک غیر ملکی کو دباؤ میں آ کر رہا کر دیا گیا، وہیں ہزاروں بے گناہ افغان شہری محض لسانی اور نسلی بنیادوں پر طالبان کے قید خانوں میں سڑ رہے ہیں اور ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور پریس سینٹر کی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں طالبان نے نظام کی مخالفت، سڑکوں پر احتجاج اور اپوزیشن محاذوں کی حمایت کے الزامات میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں متعدد صحافی بھی شامل ہیں۔ ان قیدیوں کو وکیل تک رسائی حاصل نہیں اور نہ ہی انہیں منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان کیخلاف بغاوت: افغان نوجوانوں نے نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے پرچم تلے اتحاد کر لیا
افغانستان پریس سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست صحافیوں، جیسے افغان نیوز ایجنسی کے مہدی انصاری، سے تشدد کے ذریعے زبردستی اعترافی بیانات لیے گئے۔
اگرچہ مہدی انصاری کو سزا کاٹنے کے بعد گزشتہ ہفتے رہا کر دیا گیا، مگر عطا محمد نور کے مطابق طالبان کا دہرا معیار اور افغان شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان نے منگل کے روز امریکی قیدی ڈینئیل کوائل کو رہا کیا، جس کے بارے میں طالبان کی وزارتِ خارجہ کا دعویٰ ہے کہ یہ رہائی ان کے خاندان کی جانب سے طالبان کے امیر کو لکھے گئے ایک خط کے بعد عمل میں آئی۔
تاہم، عالمی مبصرین اور عطا محمد نور کا مؤقف ہے کہ یہ پسپائی ٹرمپ انتظامیہ کی ان دھمکیوں کا نتیجہ ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی قیدی رہا نہ کیے گئے تو طالبان کو بھی وینزویلا اور ایران جیسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












