افغان طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات عالمی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

امریکی تھنک ٹینک نے افغان طالبان کے جابرانہ نظام اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات کو عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
افغان طالبان کا جابرانہ نظام اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اب دنیا بھر کے لیے ناقابل قبول ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ان فوکس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اور انتہا پسندانہ قوانین افغان شہریوں، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے القاعدہ اور فتنہ الخوارج جیسے خطرناک دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعلقات بدستور برقرار ہیں اور وہ ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کو پاکستان مخالف شدت پسندوں کا ساتھ چھوڑنا ہوگا، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
تھنک ٹینک کے مطابق طالبان کا ملک کی خود مختاری کا دعویٰ محض ایک ڈھونگ ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ایک ملک کے سوا کسی نے بھی انہیں تسلیم نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ افغانستان کی نمائندگی کا کوئی قانونی جواز نہیں رکھتے۔
ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ طالبان کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں نے افغانستان کو اقتصادی اور انسانی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
یہ صورتحال محض افغانستان کا داخلی معاملہ نہیں رہی بلکہ القاعدہ اور فتنہ الخوارج کی پشت پناہی پورے خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی مزید تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












