اگلے ماہ سے یورپ کو ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہوگا، عالمی توانائی کمپنی

عالمی توانائی کمپنی شیل کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں اگلے ماہ سے یورپ کو ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی توانائی کی بڑی کمپنی شیل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وائل ساوان نے ایک بیان میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ کا سلسلہ یونہی برقرار رہا تو یورپ کو رواں سال اپریل کے آغاز سے ہی ایندھن کی فراہمی میں بڑے تعطل اور شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قلت کا یہ سلسلہ ایک لہر کی مانند ہے، جس نے سب سے پہلے جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے بعد یہ لہر جنوب مشرقی ایشیا اور شمال مشرقی ایشیا تک پہنچی اور اب اپریل تک اس کے اثرات یورپ میں مکمل طور پر ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خارک جزیرے پر حملہ ہوا تو عالمی تیل منڈی میں شدید بحران پیدا ہو گا، پاسداران انقلاب
وائل ساوان نے مزید بتایا کہ ان کی کمپنی اس وقت مختلف حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ انہیں ان تمام ممکنہ اقدامات اور طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے، جو اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان اقدامات میں ایندھن کی طلب میں کمی لانا، ذخیرہ اندوزی کے نظام کو بہتر بنانا اور خریداری کے عمل میں تبدیلی لانا شامل ہے۔
شیل کے سربراہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت ہم صرف بحران پیدا ہونے کے بعد اس پر ردعمل دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ بہترین توانائی کی حکمت عملی وہ ہوتی ہے، جو اگلے پانچ سے دس سالوں کو مدنظر رکھ کر بنائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ جنگی حالات عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، جس کے نتائج جلد ہی عالمی سطح پر برآمد ہوں گے۔
Catch all the دنیا News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












