ایران میں بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر میزائل حملہ، عالمی ایٹمی ایجنسی کی تصدیق

تہران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کے بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر ایک نئے میزائل حملے کی تصدیق کی ہے۔
ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ منگل کی رات گئے بوشہر کے ایٹمی بجلی گھر پر ایک میزائل حملہ کیا گیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر آٹھ منٹ پر ہوا، جسے امریکی و صہیونی دشمن کی معاندانہ کارروائی قرار دیا گیا ہے۔
ابتدائی تکنیکی جائزوں کے بعد اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ بجلی گھر کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی اثر نہیں پڑا اور تمام عملہ محفوظ ہے۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بھی تہران کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی آپریشنل حالت مستحکم ہے، تاہم انہوں نے علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایٹمی سلامتی کو لاحق خطرات سے بچنے کے لیے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد ایران کی ایٹمی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی
یاد رہے کہ بوشہر ایران کا واحد فعال ایٹمی بجلی گھر ہے، جس کی حفاظت عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک مراسلہ بھیجا ہے، جس میں نطنز اور بوشہر کی پرامن ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی مراکز کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تابکاری کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جو ماحول اور انسانی زندگیوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل اسرائیل کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل ہونے پر مجبور کرے اور اس کی تنصیبات کی نگرانی کو یقینی بنائے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









