نیتن یاہو کو ٹرمپ اور ایران کے معاہدے پر اعتراض، تہران کو امریکی نیت پر شک

امریکہ اور علاقائی ثالثوں کی جانب سے ایران کو امن مذاکرات کی پیشکش کے بعد اسرائیلی قیادت میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے، جبکہ ایران نے مذاکرات کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی اس جمعرات کو ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے تہران کے جواب کے منتظر ہیں۔
تاہم دوسری جانب اسرائیلی قیادت ان مذاکرات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات کا شکار ہے اور اسے امریکی دعوؤں پر یقین نہیں ہے کہ ایران کسی قسم کی مراعات دینے پر آمادہ ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں، جو اسرائیل کے اہداف سے مطابقت نہیں رکھتا اور جس میں ایران کو بڑی رعایتیں دی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا پاکستان اور جنوبی ایشیائی ممالک کو بحران سے محفوظ رکھنے کا فیصلہ
نیتن یاہو کو سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کی ایران پر حملے کرنے کی فوجی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔
ادھر ایرانی حکام نے ثالثوں کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پہلے بھی دو بار دھوکہ کھا چکے ہیں اور اب مزید بیوقوف بننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایک طرف امن مذاکرات کی تجویز دی جا رہی ہے تو دوسری طرف امریکہ نے خطے میں بڑے پیمانے پر فوج بھیج دی ہے اور عسکری نقل و حرکت تیز کر دی ہے۔
ایران کے مطابق امریکی فوج کی یہ تعیناتی اس بات کا ثبوت ہے کہ امن مذاکرات کی تجویز محض ایک چال ہے تاکہ ایران کو غافل کر کے اس پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











